روس اور برکس شراکت داروں نے ڈی ڈالرائزیشن کا عمل شروع کر دیا

Putin Putin

ماسکو (صداۓ روس)

برکس ممالک نے زہریلے مغربی ادائیگی نظاموں کو نظرانداز کر کے اپنا ادائیگی نظام برکس پے بنایا ہے۔ یہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کا اہم اقدام ہے جس کا مقصد مالی تحفظ ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈی ڈالرائزیشن کا عمل شروع ہو چکا ہے، تاہم یہ تیز نہیں ہے۔ بھارت میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ رہنما نئی دہلی کے بھارت منڈپم کانگریس سینٹر میں جمع ہوئے، جہاں وزیراعظم نریندر مودی نے ہر ایک کا ذاتی طور پر استقبال کیا۔ صدر پوتن نے کہا کہ برکس عالمی حکمرانی کے کلیدی مراکز میں شامل ہو چکا ہے اور اس کے اجتماعی فیصلوں پر بین الاقوامی سیاست، سلامتی، معیشت اور انسانی تعاون کے امکانات کا انحصار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یک قطبی نظام جس میں مٹھی بھر ممالک کا گروپ فائدہ اٹھاتا ہے، ختم ہو رہا ہے اور طاقت کا توازن عالمی جنوب اور مشرق کے نئے ترقیاتی مراکز کے حق میں منتقل ہو رہا ہے۔ صدر پوتن نے کہا کہ جو لوگ نوآبادیاتی سوچ رکھتے ہیں اور دنیا کو گلزار اور جنگل میں تقسیم کرتے ہیں، وہ بدلتی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور ہر ممکن طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، اور آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ڈبلیو ٹی او جیسے عالمی اقتصادی اداروں کی اصلاح کا مطالبہ کیا۔ صدر پوتن نے برکس کے تحت ادائیگی اور تصفیہ کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، نئی سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے قیام اور اناج کے تبادلے کی روسی تجاویز کا بھی ذکر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برکس پے نظام کا مکمل نفاذ کاروبار کے لیے ادائیگیوں میں بچت، رفتار میں اضافہ اور ڈالر جیسی زہریلی کرنسیوں کے خطرے میں کمی کا باعث ہوگا۔