ماسکو (صداۓ روس)
روس نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں روس اور خلیجی تعاون کونسل کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے نویں دور کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ فریقین نے جزیرہ نما عرب کے جنوب میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی بات کی۔
لاوروف کے مطابق روس اور خلیجی تعاون کونسل میں اس کے شراکت دار دونوں اس بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے کافی بنیادیں موجود ہیں، جن میں 2023 کا روڈ میپ بھی شامل ہے، جو سعودی عرب کے فعال اور قائدانہ کردار سے تیار کیا گیا تھا۔
خلیجی تعاون کونسل چھ ممالک بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، عمان اور سعودی عرب پر مشتمل علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانا اور اہم بین الاقوامی و علاقائی مسائل پر مشترکہ مؤقف تیار کرنا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا کے مطابق لاوروف نے ڈائیلاگ کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود سے بھی ملاقات کی۔ سعودی وزارت خارجہ واضح کر چکی ہے کہ ریاض سفارتی راستہ بند کرنے کی بات نہیں کر رہا اور خطے کے مسائل کے سیاسی حل کا حامی ہے، تاہم وہ اپنے دفاع کے معاملے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔ لاوروف نے سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کو ناقابل قبول اور ان کا اختیار کردہ راستہ غیر نتیجہ خیز قرار دیا۔
خطے میں کشیدگی ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے اقدامات اور حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اندازے کے مطابق اس بحران سے رواں سال خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کی معیشت میں 4.8 فیصد سکڑاؤ کا خدشہ ہے۔ ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حالیہ حملے کے بعد، جس میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے، برسلز نے 24 اکتوبر کو ریاض میں ہونے والا یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل کا سربراہی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔
لاوروف نے بتایا کہ روس اور خلیجی تعاون کونسل کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا اگلا اجلاس باری کی بنیاد پر روس میں ہوگا اور اس کی صدارت سعودی عرب کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس خطے میں مکمل جنگ کی واپسی روکنے کے لیے عرب ممالک کی امن کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔