روس کا یوکرین کے فوجی رسدی مراکز اور مواصلاتی تنصیبات پر بڑا حملہ

Russian Air Force Russian Air Force

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوج نے یوکرین میں موبائل آپریٹرز کے ڈیٹا مراکز، فوجی سازوسامان کے گوداموں، بندرگاہی تنصیبات اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ وزارت کے مطابق کیف کے علاقے میں زمّلر گروپ کے ایک بڑے گودام کو نشانہ بنایا گیا، جہاں یوکرین پہنچنے والی مغربی فوجی امداد ذخیرہ اور تقسیم کی جاتی تھی۔ گودام کراسیلوفکا کے علاقے میں واقع ہے اور حملے کے بعد وہاں کئی گھنٹوں تک آگ بھڑکتی رہی۔ کیف میں موبائل آپریٹر ووڈافون یوکرین کے ایک ڈیٹا مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ روسی وزارت دفاع نے ووڈافون یوکرین کو یوکرینی فوج کو موبائل مواصلات اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی خدمات فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں میں شامل قرار دیا ہے۔

وزارت کے مطابق بعد ازاں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی اومیگا ٹیلی کام اور موبائل و انٹرنیٹ آپریٹر کییف اسٹار کے ڈیٹا مراکز بھی حملوں کی زد میں آئے۔ حالیہ عرصے میں یوکرین کے متعدد موبائل اور انٹرنیٹ فراہم کنندگان کے مراکز روسی حملوں میں متاثر ہوئے ہیں، جس سے مواصلاتی خدمات میں خلل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق میکولائیف کے علاقے میں حملہ آور ڈرونز ذخیرہ کرنے والے دو گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اوڈیسا میں انٹرسیپٹر ڈرونز کے ذخیرے پر بھی حملہ کیا گیا۔ یوکرینی ڈرون ساز کمپنی پیگاسس آرمز نے بھی رواں ہفتے روسی حملوں میں اپنی پیداواری تنصیب کو شدید نقصان پہنچنے کے بعد سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔ دریائے ڈینیوب کے کنارے واقع بندرگاہی شہر کلیا میں بھی بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق بندرگاہی بنیادی ڈھانچے، ایک بحری اڈے، سرحدی محافظوں کی تنصیب اور فوجی سازوسامان ذخیرہ کرنے والے چار گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔

وزارت کے مطابق اوڈیسا کے قریب سمندر میں دو خشک مال بردار بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جنہیں یوکرینی فوج کے لیے فوجی سازوسامان اور دوہرے استعمال کی اشیا کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ ہفتوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کی جانب سے موسم گرما میں دباؤ بڑھانے کی مہم کے بعد روس نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملک بھر میں فوجی رسد، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مزید اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔