روس کی اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کو سوچی منتقل کرنے کی تجویز

UN Security Council UN Security Council

ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت خارجہ کے محکمہ بین الاقوامی تنظیمات کے ڈائریکٹر کرل لوگوینوف نے ٹاس کو انٹرویو میں کہا ہے کہ روس کی جانب سے اقوام متحدہ کے صدر دفتر کو سوچی منتقل کرنے کی تجویز بدستور زیرِ غور ہے۔

لوگوینوف کے مطابق اس بنیادی معاملے کا اہم پہلو یہ یقینی بنانا ہے کہ میزبان ملک اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔ اسی تناظر میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک سال قبل نیویارک میں جو تجویز پیش کی تھی کہ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کو سوچی منتقل کرنے پر غور کیا جائے، وہ اب بھی زیرِ غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ سے اقوام متحدہ کا صدر دفتر کسی دوسرے ملک منتقل کرنا نظریاتی طور پر ممکن ہے، اور بہت سے رکن ممالک میزبان ملک کے طور پر امریکہ کے خلاف شکایات رکھتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر نیویارک میں اس نوعیت کی تجویز پیش ہونے کا کوئی حقیقی امکان نہیں ہے۔

لوگوینوف کے مطابق سب سے پہلے تو نئی جگہ کو بنیادی ڈھانچے کی ترقی، نقل و حمل تک رسائی اور سلامتی کے حوالے سے عالمی تنظیم کے مرکزی اداروں کی میزبانی کے لیے موزوں ہونے کے معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔ دوسرا، ایسی منتقلی پر بہت زیادہ مالی لاگت آئے گی اور موجودہ حالات میں اس طرح کا قدم اٹھانے کا امکان بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں کسی کو غیر ضروری منتقلی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔