روس میں ہائی پروفائل کرپشن کیس، سینئر تفتیشی افسران کو طویل قید کی سزائیں
ماسکو (صداۓ روس)
ماسکو کی ایک عدالت نے کرپشن کے ایک ہائی پروفائل مقدمے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھ افسران کو طویل قید کی سزائیں سنا دیں، جن میں تحقیقاتی کمیٹی کے دو اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ملزمان نے بھتہ خوری کی ایک منظم اسکیم کے تحت شواہد گھڑنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ارتکاب کیا۔ استغاثہ کے مطابق پیر کے روز عدالت نے افسران کو مجرمانہ گروہ تشکیل دینے، رشوت لینے اور جعلی شواہد بنانے کا قصوروار قرار دیا۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ایک بڑی کمپنی پر قبضے کی غرض سے اس کے شیئر ہولڈرز کے خلاف ایک جھوٹا فوجداری مقدمہ قائم کیا اور بعد ازاں جھوٹے الزامات ختم کرنے کے بدلے پندرہ ارب روبل کی رشوت کا مطالبہ کیا۔ اس گروہ میں تحقیقاتی کمیٹی کے دو شعبہ جاتی سربراہان، سرگئی رومودانوفسکی اور رستم یوسوپوف شامل تھے، جو دونوں اعلیٰ قانون نافذ کرنے والے افسران کے بیٹے ہیں۔ رومودانوفسکی کے مرحوم والد کونستانتین رومودانوفسکی دو ہزار پانچ سے دو ہزار سولہ تک روسی فیڈرل مائیگریشن سروس کے سربراہ رہے۔ دیگر ملزمان میں ایک تفتیشی افسر، ایف ایس بی کا اہلکار اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کا ایک افسر شامل تھا، جبکہ ایک وکیل نے گروہ اور متاثرین کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔
عدالت نے تمام چھ ملزمان کو چودہ سے انیس سال قید کی سزائیں سنائیں۔ تاہم تمام ملزمان نے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکلا نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق یہ مجرمانہ گروہ دو ہزار انیس میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور دو مبینہ فکسرز، کریل کاچور اور ان کے والد ویتالی، نے تشکیل دیا۔ کریل کاچور کو روس میں غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا جا چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں روس سے باہر مقیم ہیں، کریل مونٹی نیگرو جبکہ ان کے والد متحدہ عرب امارات میں رہ رہے ہیں، اور انہیں بین الاقوامی سطح پر مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق اس گروہ نے مرلیون گروپ کو نشانہ بنایا جو آئی ٹی، گھریلو آلات اور دفتری فرنیچر کی فروخت سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم ایک بڑا کاروباری ادارہ ہے۔ ملزمان نے گروپ کے سابق چیف ایگزیکٹو کے گھر پر آتش زنی کا ایک واقعہ رچایا اور اسی بنیاد پر شیئر ہولڈرز کے خلاف قتل کی سازش کا جعلی مقدمہ بنایا۔ متاثرہ افراد کو ابتدا میں حراست میں لیا گیا تاہم ان کے وکلا کیس کو تحقیقاتی کمیٹی کے مرکزی دفتر منتقل کرانے میں کامیاب رہے جہاں اس پوری اسکیم کا پردہ فاش ہوا۔ علاوہ ازیں استغاثہ کے مطابق یوسوپوف اور رومودانوفسکی نے ایک اور مقدمے میں ملزمان کو قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے ایک سو نو ملین روبل کی رشوت بھی قبول کی، جبکہ تیسرے مقدمے میں اسی نوعیت کی مداخلت کے لیے ایک کروڑ یورو کا مطالبہ کیا گیا۔