ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ نئی ویزا پابندیوں کے باوجود جنوبی افریقہ امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا، اور پریٹوریا مذاکرات میں اپنی خودمختاری اور وقار کا تحفظ کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے ان غیر ملکی افراد کے خلاف ہدفی پابندیوں کا اعلان کیا تھا جنہیں واشنگٹن جنوبی افریقہ میں بلا معاوضہ زمینوں کے قبضے، نسلی امتیاز اور اقلیتی گروہوں کے خلاف تشدد پر اکسانے جیسی پالیسیوں کا ذمہ دار یا معاون سمجھتا ہے۔ پالیسی کے اعلان کے وقت کسی فرد کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ رامافوسا نے پیر کے روز جوہانسبرگ کنٹری کلب میں اے این سی ویٹرنز لیگ کے فنڈ ریزنگ گالف ایونٹ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان پابندیوں کا نوٹس لیا ہے، تاہم واشنگٹن کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کے ساتھ بھی بالکل اسی طرح بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار اور آمادہ ہیں جس طرح دنیا کے دیگر تمام ممالک کے ساتھ کرتے ہیں۔
رامافوسا نے مزید کہا کہ جہاں بھی مشکلات ہوں گی، ہم اپنی عزت اور خودمختاری کے ساتھ ان ممالک سے بات چیت کریں گے، سر جھکائے بغیر، اور ان قوموں کے ساتھ عزت سے پیش آتے ہوئے توقع رکھیں گے کہ وہ بھی ہمارے ساتھ اسی احترام سے پیش آئیں۔ صدر نے کہا کہ امریکہ جنوبی افریقہ کے لیے اب بھی ایک اہم منڈی ہے اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے مصنوعات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی افریقہ اور امریکہ کے مابین تجارت اور ٹیرف کے معاملات پر کچھ عرصے سے بات چیت جاری ہے۔ امریکہ نے “نام نہاد پانچ مسائل” بھی اٹھائے تھے، جن میں سے کئی کا جنوبی افریقہ نے جواب دے دیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ تازہ اعلان کے پیش نظر مذاکرات کا کیا بنا، تو رامافوسا نے کہا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس اقدام کی وجہ کیا بنی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے واقعی نہیں معلوم کہ کیا ہوا، صرف وہی بتا سکتے ہیں کہ اصل میں کیا ہوا۔ رامافوسا نے کہا کہ جنوبی افریقہ تعلقات میں مشکلات حل کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کے ساتھ تجارت بھی کرتے ہیں، اور کچھ اشیا ایسی ہیں جو انہیں ہم سے اور ہمیں ان سے درکار ہیں۔ یہی چیز توازن کی کیفیت پیدا کرتی ہے، اور جب ہم ایک دوسرے کا احترام کرنے والی ریاستوں کے طور پر معاملات طے کریں گے تو حل نکل آئے گا۔