جنوبی افریقہ کی گاڑیوں کی برآمدات 2025ء میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

Cars Cars

جنوبی افریقہ کی گاڑیوں کی برآمدات 2025ء میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی افریقہ سے گاڑیوں کی برآمدات 2025ء میں تاریخی بلندی پر پہنچ گئیں۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز آف ساؤتھ افریقہ (NAAMSA) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024ء کے مقابلے میں برآمدات میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025ء کے دوران گاڑیوں کی برآمدات بڑھ کر 4 لاکھ 14 ہزار 268 یونٹس تک پہنچ گئیں، جو 2024ء میں برآمد ہونے والے 3 لاکھ 91 ہزار 128 یونٹس کے مقابلے میں 5.9 فیصد زیادہ ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 2025ء میں جنوبی افریقہ میں تیار ہونے والی ہزاروں گاڑیاں دنیا کی 109 منڈیوں تک پہنچیں۔ امریکی ٹیرف کے باعث امریکا کو ترسیل میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں برآمدات 25 ہزار 554 یونٹس سے گھٹ کر 6 ہزار 530 یونٹس رہ گئیں۔ تاہم امریکا کی جانب کمی کو یورپ کی منڈیوں میں اضافے نے متوازن کر دیا، جہاں برآمدات 2 لاکھ 95 ہزار 762 یونٹس سے بڑھ کر 3 لاکھ 32 ہزار 695 یونٹس تک پہنچ گئیں۔ یورپی یونین اور برطانیہ مجموعی برآمدات کے 80 فیصد سے زائد کے حصے دار رہے۔

NAAMSA نے اپنے بیان میں کہا کہ اہم برآمدی منڈیوں میں بڑھتے ہوئے تحفظاتی رجحانات کے باوجود جنوبی افریقہ کی گاڑیوں کی برآمدات نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ چوتھی سہ ماہی 2025ء میں برآمدات میں سال بہ سال 1.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگرچہ ایشیا کی جانب ترسیل میں جاپان کو کم سپلائی کے باعث کمی نوٹ کی گئی۔ رپورٹ میں مخصوص گاڑیوں کے برانڈز کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم صنعتی معلومات کے مطابق جنوبی افریقہ میں عالمی کمپنیوں جیسے BMW, Mercedes-Benz, Toyota, Ford, Volkswagen, Nissan اور Isuzu کے پیداواری یونٹس موجود ہیں۔

Advertisement

ملکی سطح پر خصوصی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں میں Birkin Cars، Bailey Cars اور EVerione شامل ہیں، جو ہلکی پھلکی، اسپورٹس اور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری سے وابستہ ہیں۔ جنوری میں حکومت نے مقامی گاڑیوں کی پیداوار کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات کے پیکج کی تیاری کا اعلان بھی کیا۔ حکام کے مطابق 2035ء تک آٹوموٹیو شعبے میں روزگار دوگنا کرنے اور عالمی گاڑیوں کی پیداوار میں جنوبی افریقہ کا حصہ 1 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری 60 فیصد تک لے جانے کی منصوبہ بندی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق آٹوموٹیو شعبہ 1 لاکھ 15 ہزار سے زائد براہِ راست مینوفیکچرنگ ملازمتوں اور ویلیو چین میں 5 لاکھ سے زیادہ روزگار کی حمایت کرتا ہے، جبکہ یہ شعبہ ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 5.3 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔