اسپین میں غیر ملکی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کرگئی
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
اسپین کے سرکاری ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹیٹسٹکس (INE) کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مقیم بیرونِ ملک پیدا ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔ مجموعی آبادی تقریباً 4 کروڑ 95 لاکھ بتائی گئی ہے، جس میں غیر ملکی نژاد باشندوں کا حصہ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں بیرونِ ملک پیدا ہونے والی آبادی تقریباً دوگنی ہوئی، جبکہ کم شرحِ پیدائش اور ہجرت کے باعث مقامی آبادی میں کمی دیکھی گئی۔ اعدادوشمار کے مطابق مراکش سے تعلق رکھنے والے افراد سب سے بڑی تارکینِ وطن برادری ہیں، جن کی تعداد لگ بھگ 11 لاکھ 70 ہزار ہے۔ اس کے بعد کولمبیا اور وینزویلا سے آنے والے شہری نمایاں ہیں۔ گزشتہ برس کے دوران بھی کولمبیا، وینزویلا اور مراکش سے بڑی تعداد میں نئے افراد اسپین پہنچے، جس نے آبادی کے ڈھانچے میں مزید تبدیلی پیدا کی۔
ملک کی سیاسی فضا میں بھی اس رجحان کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دائیں بازو کی جماعت ووکس نے حالیہ برسوں میں اپنی عوامی مقبولیت میں اضافہ دیکھا ہے اور امیگریشن قوانین کو سخت کرنے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی بے دخلی کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت کی قیادت کا مؤقف ہے کہ آبادی میں تیز رفتار تبدیلیوں نے رہائش، روزگار اور سماجی خدمات پر دباؤ بڑھایا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی حکومت نے مہاجر دوست پالیسیوں پر زور برقرار رکھا ہے۔ حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں افراد کو قانونی حیثیت دینے کے اعلان کو دائیں بازو نے تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ حکومتی مؤقف ہے کہ معیشت کو متحرک رکھنے اور افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے امیگریشن ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسپین میں آبادی کے بدلتے ہوئے رجحانات مستقبل کی معاشی منصوبہ بندی، لیبر مارکیٹ اور سماجی انضمام کی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف قومی سطح پر بلکہ یورپی یونین کے وسیع تر مباحث میں بھی اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔