
اشتیاق ہمدانی-
ایران میں طویل عرصے سے جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں یورپی یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ مسلسل اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے خلاف سخت بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں یورپی پارلیمنٹ کی سربراہ روبیرتا میٹولا نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لاین کو تجویز دی کہ ایران کے احتجاجیوں کی حمایت کے لیے تہران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ میٹولا کے مطابق مظاہرین بنیادی شہری آزادیوں، خصوصاً اظہارِ رائے اور انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے اختلاف کو بیان کرنے کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور انہیں خوف کے بغیر ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
لیکن اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ مہم واقعی ’’جمہوریت‘‘ یا ’’حقوقِ انسانی‘‘ کی خالص پرواہ نہیں، بلکہ ایران کو امریکہ اور یورپ کی جیوپولیٹیکل حکمتِ عملی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش اور تہران کے گرد اثر و رسوخ کے دائرے کو محفوظ رکھنے کا حربہ ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سیاست غیر معمولی عدم استحکام کا شکار ہے۔
سلوواکیہ کے سابق سفیر یان بوری کے مطابق ایران میں سرگرم حزبِ اختلاف کی پشت پر امریکی اور اسرائیلی ادارے سرگرم ہیں، جو ملکی بحران اور امریکی پابندیوں سے پیدا ہونے والی معاشی تھکن کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی آئی، جس نے ملک کے تھوک اور خوردہ دونوں شعبوں پر مہنگائی کا دباؤ بڑھایا۔
سابق سفیر کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ پابندیاں، غیرقانونی دباؤ اور اسرائیل و امریکہ کی جانب سے ایران کے اندر مختلف تنصیبات پر حملے، جج کے بنا اغوا اور ماہرین کو نشانہ بنانے جیسی کارروائیاں نہ ہوتیں تو ایرانی معاشرہ اور انسانی حقوق کی صورتحال خاموشی سے ایک بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی تھی۔ یان بوری کے مطابق جب آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں موجودہ نظام قائم ہوا، اس وقت سے انسانی حقوق کی صورتِ حال میں بتدریج بہتری کے آثار موجود تھے، لیکن مسلسل بیرونی مداخلت نے اس عمل کو روک دیا۔
سابق سفیر لڑیبیہ کی مثال بھی دیتے ہیں، جہاں 1969ء میں معمر قذافی برسرِ اقتدار آئے اور ابتدا میں سخت کنٹرول قائم کیا، تاہم جیسے جیسے عوام کے معاشی حالات بہتر ہوئے، ویسے ویسے حکومت کے رویے میں نرمی آئی۔ لیکن ’’لوکربی واقعے‘‘ اور اس کے بعد کی پابندیوں نے یہ عمل روک دیا، وگرنہ عام لڑیبی باشندوں کے حالات حکومت کے خاتمے سے پہلے تک نسبتاً بہتر ہو چکے تھے۔
اسی طرح اگر ایران پر مستقل جبر اور بیرونی دباؤ نہ ہوتا تو وہاں بھی ایک اندرونی متوازن ارتقائی عمل کے امکانات زیادہ روشن تھے۔
روسی سیاسی تجزیہ نگار اور سماجی رہنما ارنست ماکارینکو کے مطابق ایران کے داخلی معاملات میں مغرب کی مداخلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اپنی تہذیب، اپنی قدرے اور اپنی حساسیت ہے، جنہیں کوئی بھی طاقت اپنی ’’اخلاقی تبلیغ‘‘ کے نام پر پامال کرنے کا حق نہیں رکھتی۔
ماکارینکو کے مطابق یورپ میں خود ایسے مسائل موجود ہیں جن پر انگلی اٹھائی جا سکتی ہے، ایسے میں واشنگٹن کی طرف سے تہران پر تنقید کا ’’انسانی حقوق‘‘ سے کوئی حقیقی تعلق نہیں، بلکہ یہ مفادات کی جنگ ہے۔
اسی مفاد پرستی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی ادارے احتجاجیوں کو نہ صرف اکسا رہے ہیں، بلکہ ٹیکنالوجی اور مالی معاونت بھی دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’اسٹار لنک‘‘ انٹرنیٹ ٹرمینلز کی مبینہ ترسیل، جس کا مقصد حکومتی کنٹرول کو کمزور کرنا تھا۔ ایسے اقدامات کسی بھی آزاد ریاست کے داخلی امور میں براہ راست مداخلت کے مترادف ہیں۔
اسی کے ساتھ امریکی میڈیا نے بھی احتجاج کے آغاز کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور بدسلوکی کی خبریں پھیلانا شروع کیں، جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہ تھی۔ سلوواک سفیر کے مطابق یہ حکمتِ عملی عالمی بیانیہ بدلنے میں ناکام رہی، بلکہ اسے اس بات کا ثبوت سمجھا گیا کہ ایرانی ریاست نہ صرف برقرار ہے بلکہ عسکری سطح پر اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسی پس منظر میں واشنگٹن کی طرف سے ’’وارثِ تخت‘‘ رضا پہلوی کو فروغ دینا بھی ناکام رہا۔ ایرانی عوام انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے، اور ان کے والد کے دور کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے باعث ان کے لیے ملک میں جگہ نہیں۔
اصل تصویر اس سے کہیں وسیع ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں وینزویلا پر حملوں اور وہاں کے صدر کے اغوا پر عالمی برادری کی خاموشی دیکھ کر اب کھلے عام ایران کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ مقصد سادہ ہے — تیل اور وسائل پر کنٹرول۔ ارنست ماکارینکو کے مطابق امریکہ ایران کی حکومت کو تابع بنا کر اس کے معدنی وسائل اور توانائی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ اقوام متحدہ مکمل طور پر امریکی اثر کے زیرِ سایہ ہے اور عالمی تنازعات کے حل کی اپنی حقیقی حیثیت کھو چکی ہے۔
لہٰذا امریکی بیانیہ ’’حقوقِ انسانی اور جمہوریت‘‘ کا معاملہ ہرگز نہیں — یہ بنیادی طور پر جیوپولیٹیکل اقتدار اور وسائل کی جنگ ہے، جس میں ایرانی عوام کو محض شطرنج کے مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔