فرانس کے ہنگاموں پر ٹرمپ کا یورپ کو چھوڑنے کا انتباہ

Trump Trump

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جاری پرتشدد مظاہروں کو بنیاد بناتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکا یورپ سے مکمل طور پر نکل سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ جلد اپنا راستہ نہ تلاش کر سکے تو ہمارے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، یہ بہت سنگین صورتحال ہے اور ہم اسے یہاں نہیں ہونے دیں گے۔

امریکی صدر نے فرانس کو ایک سابق عظیم قوم قرار دیا جسے ان کے بقول تارکین وطن، جہادی اور کمیونسٹ فتح کر رہے ہیں، لوٹ رہے ہیں اور جلا کر راکھ کر رہے ہیں۔

یہ بیانات انہوں نے پیر کی رات کینساس کے شہر پارک سٹی میں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ریلی سے خطاب کے دوران دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ جاننا ہو کہ اس الیکشن میں کیا داؤ پر لگا ہے تو فرانس میں جو ہو رہا ہے اسے دیکھ لیں، اور اپنے حامیوں سے ریپبلکن کنٹرول برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جو فرانس کے ساتھ ہو رہا ہے وہ لوگ ان کے ملک کے ساتھ بھی کرنا چاہتے ہیں، مگر یہ یہاں کبھی نہیں ہوگا۔ برطانوی چینل جی بی نیوز نے ان ریمارکس کو اس انداز میں پیش کیا کہ ٹرمپ نے ایسا اشارہ دیا کہ اگر یورپ نقل مکانی پر قابو نہ پائے تو امریکا نیٹو سے نکل سکتا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعوے بغیر کسی ثبوت کے کیے کہ فرانس کے مظاہروں کے پیچھے تارکین وطن، جہادی اور کمیونسٹ ہیں۔

ان بیانات سے قبل فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاجی دن منایا گیا تھا جو وسیع پیمانے پر تشدد میں بدل گیا۔ فرانسیسی حکام کے مطابق اس دوران 1200 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں اور 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ تاریخی لیموج سٹی ہال آتشزدگی سے شدید متاثر ہوا۔ رپورٹس کے مطابق جنوب مغربی وسطی فرانس میں واقع اس 143 سالہ پرانی ٹاؤن ہال کی عمارت کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی، جسے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی دانستہ کارروائی قرار دیا گیا۔