ٹرمپ کا نیویارک ٹائمز کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق جنگی رپورٹنگ پر معروف امریکی اخبار [The New York Times](https://www.nytimes.com?utm_source=chatgpt.com) کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے اس کی رپورٹنگ کو “غداری” قرار دیا ہے۔ یہ ردِعمل اخبار میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون کے بعد سامنے آیا، جس میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ تقریباً چار ماہ جاری رہنے والی جنگ کے بعد خطے کی صورتحال میں عملی طور پر کیا تبدیلی آئی ہے۔ مضمون میں بعض تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ جنگ اور بعد میں ہونے والے معاہدے کے باوجود ایران سے متعلق بنیادی خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔رپورٹ میں امریکی تعلیمی ادارے Massachusetts Institute of Technology کی پروفیسر Caitlin Talmadge کا یہ مؤقف بھی شامل کیا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اس حقیقت کا نتیجہ تھی کہ واشنگٹن نے اپنی توقعات سے زیادہ بڑا ہدف اختیار کر لیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر متعدد پیغامات میں اس تجزیے کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا، اس کی قیادت کو کمزور کیا اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے، تیل کی ترسیل جاری ہے اور امریکی معیشت مضبوط کارکردگی دکھا رہی ہے، جو ان کے بقول جنگ کے نمایاں نتائج ہیں۔

ٹرمپ نے مزید الزام عائد کیا کہ اخبار “جھوٹے اور من گھڑت حقائق” پیش کر رہا ہے اور اعلان کیا کہ وہ اس رپورٹنگ کو اخبار کے خلاف پہلے سے جاری اربوں ڈالر مالیت کے ہتکِ عزت مقدمے کا حصہ بنائیں گے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ 2025 میں نیویارک ٹائمز، اس کے بعض صحافیوں اور کتاب کے ناشر کے خلاف 15 ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کر چکے ہیں۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک کتاب کے ذریعے ان اور ان کے کاروباری معاملات سے متعلق غلط معلومات پھیلائی گئیں۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمہ بے بنیاد ہے اور آزاد صحافت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ اخبار نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلا خوف و خطر رپورٹنگ جاری رکھے گا۔