ٹرمپ ایران کو تباہ نہیں کر سکتے، آیت اللہ خامنہ ای
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران میں “ریجیم چینج” سے متعلق حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ جیسے ماضی میں امریکی صدور ناکام رہے، موجودہ قیادت بھی ایران کو تباہ نہیں کر سکتی۔ امریکا کی جانب سے ایران پر جوہری پروگرام ترک کرنے اور “زیرو افزودگی” پالیسی اختیار کرنے کے لیے دباؤ جاری ہے، تاہم تہران نے یورینیم افزودگی کو اپنا بنیادی حق قرار دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی “بہترین نتیجہ” ثابت ہو سکتی ہے۔ منگل کو جنیوا میں ایران اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان جوہری مذاکرات کے موقع پر ٹیلی وژن خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ 47 برس میں امریکا اسلامی جمہوریہ ایران کو ختم نہیں کر سکا۔ خامنہ ای نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “میں آپ سے کہتا ہوں: آپ آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو دھمکانے یا دباؤ میں لانے کی کوششیں بے سود رہیں گی۔ خامنہ ای نے خطے میں تعینات اضافی امریکی بحری اثاثوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، “جنگی جہاز یقیناً خطرناک ہتھیار ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے ڈبو سکتا ہے۔”
واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی گزشتہ برس جون میں اس وقت بڑھی جب امریکا نے اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے اختتام پر ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔ اس کے بعد امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اضافی بحری اور فضائی اثاثے تعینات کیے، جن میں دوسرا طیارہ بردار جہاز بھی شامل ہے۔ امریکی قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں۔
دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان عمان میں بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جنہیں ایران نے “اچھا آغاز” قرار دیا۔ ایرانی حکام متعدد بار عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ “منصفانہ اور متوازن معاہدے” میں دلچسپی رکھتے ہیں، جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے یورینیم افزودگی میں کمی اور موجودہ ذخائر کو کمزور کرنے جیسے اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔ تاہم امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔