ایران پر حملے کے لیے فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے،متحدہ عرب امارات
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
متحدہ عرب امارات نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری پانیوں کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بعض رپورٹس کے برعکس، متحدہ عرب امارات کسی بھی حملے کے لیے کسی قسم کی لاجسٹک یا عملی معاونت فراہم نہیں کرے گا۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ امارات کا اصولی مؤقف تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مکالمے کو فروغ دینا، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ریاستی خودمختاری کا احترام موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کی بہترین بنیاد ہے۔
واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل سعودی عرب نے بھی اسی نوعیت کا بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گا۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ’’سخت‘‘ ردِعمل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، خاص طور پر ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں۔
فضائی پروازیں متاثر
خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث متعدد فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازوں میں رد و بدل یا معطلی کا اعلان کیا ہے۔ یورپ کی دو بڑی ایئرلائنز نے مشرقِ وسطیٰ کے بعض شہروں کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ فرانسیسی ایئرلائن ایئر فرانس نے خطے کی صورتحال کے پیش نظر دبئی کے لیے اپنی سروس عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیدرلینڈز کی قومی ایئرلائن کے ایل ایم نے بھی آئندہ اطلاع تک مشرقِ وسطیٰ کے متعدد شہروں کے لیے پروازیں روک دی ہیں اور عراق اور ایران سمیت خطے کے کئی ممالک کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر بھارتی ایئرلائن انڈیگو نے بھی حالیہ واقعات کے باعث کچھ پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انڈیگو کے مطابق 25 جنوری کو دہلی سے تبلیسی اور ممبئی سے الماتی جانے والی پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ 26، 27 اور 28 جنوری کو تبلیسی، الماتی، تاشقند اور باکو کے لیے آنے جانے والی تمام پروازیں بھی منسوخ رہیں گی۔ ایئرلائنز نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خطے کی صورتحال پر نظر رکھیں اور اپنی پروازوں کی تازہ ترین معلومات باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔
جنگی بیانات اور بڑھتی کشیدگی
گزشتہ ہفتے فوجی کارروائی کے امکانات میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی جب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ تہران نے مظاہرین کی مجوزہ سزائے موت پر عمل روک دیا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو تصدیق کی کہ فوجی تیاریاں بدستور جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے احتیاطاً بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز خطے کی جانب روانہ کر دیے ہیں اور ایران کی سمت ایک بڑا فوجی دستہ حرکت میں ہے۔ دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ ایران کسی بھی حملے کو اپنے خلاف ’’ہمہ جہت جنگ‘‘ تصور کرے گا۔ امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا اور دیگر فوجی اثاثے آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچنے والے ہیں، جس کے پیش نظر ایران میں ہائی الرٹ نافذ ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق اگرچہ امید ہے کہ یہ فوجی نقل و حرکت براہِ راست تصادم کے لیے نہیں، تاہم ایران کی مسلح افواج بدترین صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔