برطانیہ: امیگریشن افسران کی تارکینِ وطن سے لوٹ مار، پانچ اہلکار عدالت میں پیش

UK immigration UK immigration

برطانیہ: امیگریشن افسران کی تارکینِ وطن سے لوٹ مار، پانچ اہلکار عدالت میں پیش

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن سے نقدی چوری کرنے کے الزام میں پانچ برطانوی امیگریشن افسران عدالت میں پیش ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق یہ افسران ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوئے، جہاں ان پر سازش کے تحت چوری، سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے۔ استغاثہ کے مطابق یہ مبینہ جرائم اگست 2021 سے نومبر 2022 کے دوران انجام دیے گئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان برطانیہ کے جنوبی ساحلی علاقوں میں تعینات تھے، جہاں وہ انگلش چینل کے راستے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے تارکینِ وطن سے نمٹتے تھے۔ ان تارکینِ وطن کے پاس اکثر نقد رقم کی بڑی مقدار موجود ہوتی تھی، جسے مبینہ طور پر افسران نے آپس میں مل کر ہتھیا لیا اور آپس میں تقسیم کیا۔ اسی کیس میں ایک چھٹے ملزم پر منی لانڈرنگ کا ایک علیحدہ الزام عائد کیا گیا ہے۔ عدالت نے تمام چھ ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا، جبکہ کیس کی اگلی سماعت اگلے ماہ ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں ہو گی۔ کسی بھی ملزم سے تاحال جرم قبول یا انکار کا بیان نہیں لیا گیا۔

یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں غیر قانونی امیگریشن ایک شدید سیاسی اور سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ انگلش چینل کے ذریعے کشتیوں میں آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد میں اضافے نے عوامی رائے کو متاثر کیا ہے اور امیگریشن مخالف جذبات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں غیر قانونی تارکینِ وطن سے منسلک جرائم کی خبروں نے تنازع کو مزید ہوا دی ہے۔ اس ہفتے ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ جعلی اسکلڈ ورکر ویزا اسپانسرشپ کی ایک بلیک مارکیٹ سرگرم ہے، جہاں ایجنٹ لاکھوں روپے کے عوض فرضی نوکریوں کے کاغذات تیار کر کے تارکینِ وطن کو برطانیہ میں رہنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ انہیں غیر رسمی اور غیر محفوظ مزدوری پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان معاملات کے باعث برطانوی حکومت پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حالیہ سرویز کے مطابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ دائیں بازو کی جماعت ریفارم پارٹی کے لیے حمایت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Advertisement