ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے سابق صدر ولادیمیر زیلنسکی کی ترجمان یولیا میندل نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ایک صدی کے دوران پہلی مرتبہ فولاد کی پیداوار مکمل طور پر رک گئی ہے۔ یولیا میندل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ستمبر میں ایک ہفتے کے دوران یوکرین میں بالکل بھی فولاد تیار نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق بڑے فولاد ساز کارخانے روسی حملوں کے بعد بند ہیں اور متعدد بھٹیاں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بھٹی کو دوبارہ فعال کرنے پر کم از کم 5 کروڑ ڈالر جبکہ نئی بھٹی کی تعمیر پر تقریباً 50 کروڑ ڈالر لاگت آتی ہے۔ میندل کے مطابق فولاد کی برآمدات سے یوکرین کو ہونے والی آمدنی میں بھی ماہانہ تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی کمی ہورہی ہے۔ 22 ستمبر کو انٹرپائپ اسٹیل کمپلیکس نے پائپ رولنگ پلانٹ کی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ 18 ستمبر کو زاپوروزھ اسٹال اور کامیٹ اسٹال دھات سازی کے کارخانوں کی پیداوار رکنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اس سے قبل یوکرین کے ایک اور بڑے فولاد ساز ادارے دنیپروپیٹرووسک اسٹیل پلانٹ نے مالی مشکلات کے باعث کام بند کردیا تھا۔ جنوری 2022 میں پلانٹ نے اپنی سرگرمیاں معطل کی تھیں، جبکہ 2026 میں اسے دیوالیہ قرار دینے کی کارروائی شروع ہوئی۔ ستمبر کے آغاز میں پلانٹ کے علاقے میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ یوکرین کی فولاد سازی کی صنعت سے سالانہ تقریباً 6.2 ارب ڈالر کی غیر ملکی زرِمبادلہ آمدنی حاصل ہوتی ہے، جو زرعی مصنوعات کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور ملک کی مجموعی زرِمبادلہ آمدنی کا تقریباً 13 فیصد بنتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آرسلور متل کریوئی روگ کی جانب سے سالانہ تقریباً 8.5 ارب ہریونیا، یعنی 18 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، یوکرینی بجٹ میں جمع کرائے جاتے تھے۔ انٹرپائپ اسٹیل کا سالانہ حصہ 5.56 ارب ہریونیا، تقریباً 12 کروڑ 30 لاکھ ڈالر، زاپوروزھ اسٹال کا 4 ارب ہریونیا، تقریباً 9 کروڑ ڈالر، جبکہ کامیٹ اسٹال کا حصہ 2.5 ارب ہریونیا، تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا۔