امریکی ڈالر کا عالمی کردار خطرے میں پڑ سکتا ہے، جرمن ریگولیٹر کی وارننگ

Dollar Dollar

امریکی ڈالر کا عالمی کردار خطرے میں پڑ سکتا ہے، جرمن ریگولیٹر کی وارننگ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمنی کے مالیاتی نگران ادارے نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ڈالر کی عالمی ریزرو کرنسی کی حیثیت رواں سال ہی سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔ بدھ کے روز شائع ہونے والی سالانہ پیش گوئی رپورٹ میں جرمن فیڈرل فنانشل سپروائزری اتھارٹی (بافن) نے کہا ہے کہ ڈالر کو فنڈنگ کی قلت، جغرافیائی سیاسی جھٹکوں اور ادارہ جاتی سیاست کاری جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی ڈالر کو تقریباً ایک سال میں بدترین یومیہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ منگل کے روز بلومبرگ ڈالر اسپاٹ انڈیکس میں گزشتہ اپریل کے بعد سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر بھاری ٹیرف پالیسی متعارف کروائی تھی۔
بافن کے صدر مارک برانسن نے کہا کہ خطرہ اب بھی موجود ہے کہ مالیاتی منڈیاں امریکی ڈالر کے عالمی ریزرو کرنسی کے کردار پر سوال اٹھا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اداروں کو سیاست کی نذر کرنے کی “انتہائی کوششیں” بین الاقوامی تعاون کی افادیت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، خاص طور پر کسی معاشی یا مالی بحران کے دوران۔ ادارے نے ممکنہ لیکویڈیٹی قلت پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جو جغرافیائی سیاسی واقعات کے نتیجے میں پیدا ہو سکتی ہے، اور اسے ایک نہایت اہم خطرہ قرار دیا۔

اسی ہفتے بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ عالمی تاجر امریکی پالیسیوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث ڈالر کی مزید کمزوری پر بھاری شرطیں لگا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2025 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ منڈیاں امریکی ڈالر کے طویل مدتی مستقبل کے حوالے سے اتنی زیادہ مایوس نظر آ رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ڈالر کی کمزوری پر خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی کرنسی “بہترین کارکردگی” دکھا رہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ڈالر “اپنی قدرتی سطح خود تلاش کرے”۔ دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اکتوبر میں رپورٹ کیا تھا کہ عالمی زرمبادلہ ذخائر میں امریکی ڈالر کا حصہ کم ہو کر 56.3 فیصد رہ گیا ہے، جو تین دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کے مطابق اس کمی کی وجہ مرکزی بینکوں کی جانب سے دانستہ فروخت نہیں بلکہ کرنسی ویلیو میں تبدیلیاں تھیں۔

Advertisement