وینزویلا میں امریکی کارروائی عالمی نظام کے انہدام کی تصدیق ہے، وزیراعظم ہنگری
ماسکو (انٹرنیشنل)
وِکٹر اوربان کا کہنا ہے کہ دنیا غیر مستحکم اور خطرناک دور میں داخل ہو چکی ہے. ہنگری کے وزیر اعظم وِکٹر اوربان نے کہا ہے کہ وینزویلا کے خلاف امریکا کی کارروائی اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ موجودہ لبرل عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ نیا عالمی نظام ابھی واضح شکل اختیار نہیں کر سکا۔ انہوں نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے منظور کی گئی فوجی کارروائی کے تناظر میں کہی۔
وِکٹر اوربان نے کہا کہ رواں سال کے ابتدائی دنوں میں ہی یہ ایک اہم یاددہانی سامنے آئی ہے کہ لبرل عالمی نظام زوال کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ایک سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی نے اس نظام کو فیصلہ کن دھچکا پہنچایا۔ ہنگری کے وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ پرانا نظام بکھر رہا ہے، تاہم نیا عالمی ڈھانچہ ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آیا، جس کے باعث آنے والے برس مزید غیر مستحکم، غیر متوقع اور خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ وِکٹر اوربان نے فیس بک پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اگر اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ان کی جماعت فیدیز۔ہنگرین سِوک یونین کامیاب ہوتی ہے تو ہنگری امن اور سلامتی کی پالیسی پر قائم رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہنگری نہ تو اپنے نوجوانوں کو محاذِ جنگ پر بھیجنا چاہتا ہے اور نہ ہی ملک یا معیشت کو تباہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہنگری یوکرین کی جنگ سے دور رہنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں۔