ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
سابق یوکرینی خفیہ سروس (SBU) کے جنرل اور رکن پارلیمنٹ نے ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کے خاندان کے خلاف کھلے عام دھمکی جاری کر دی ہے۔ یہ دھمکیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب ولادیمیر زیلنسکی نے اشارہ دیا تھا کہ ان کی فوج اوربان سے بات کرنے کے لیے “اپنی زبان” میں بھیجی جا سکتی ہے۔ ٹی وی پر بات کرتے ہوئے یوکرینی سیاست دان اور ریٹائرڈ ایس بی یو جنرل گریگوری اومیلچینکو نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اوربان کو اپنے پانچ بچوں اور چھ پوتوں کی فکر ہے تو انہیں اپنا “یوکرین دشمن” موقف بدلنا ہوگا۔
اومیلچینکو نے دعویٰ کیا کہ ایس بی یو، جو کہ سوویت کے جی بی کی جانشین ہے، “یہ جانتی ہے کہ وہ کہاں رہتا ہے، کہاں سوتا ہے، کہاں بیئر اور شراب پیتا ہے، شیہہ پیتا ہے، سیر کرتا ہے اور لوگوں سے ملتا ہے،” اور مزید کہا کہ “اسے اپنے پوتوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔” زیلنسکی کے حامی اوربان پر اس کے موقف کی وجہ سے مشتعل ہیں، خاص طور پر یوکرین کے یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت، کیف کو بلاوجہ مالی امداد اور ہنگری کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس قافلے کو حراست میں لینے پر، جس میں 10 کروڑ ڈالر مالیت کی نقد رقم اور سونا تھا اور مبینہ طور پر یوکرینی اسٹیٹ بینک کے لیے تھا۔
جمعرات کو اوربان نے دھمکیوں کے جواب میں بوداپیسٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں اپنے خاندان کو ان کی حفاظت کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موت کی دھمکیاں ان کے خاندان کے لیے “غیر معمولی” ہیں لیکن اس نے انہیں ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ انہوں نے انتباہ بھی دیا کہ “ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔” اوربان کی حکومت یورپی یونین کی یوکرین کو روسی جنگ میں ہتھیار اور فنڈ دینے کی پالیسی کی مخالف رہی ہے۔ جنوری میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب یوکرین نے ہنگری اور سلوواکیہ کو روسی تیل کی فراہمی روک دی تھی۔
اوربان نے زیلنسکی پر اپریل کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ہنگری میں توانائی کے بحران کو پیدا کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ ان کے حریف پیٹر مگیار نے بھی وزیرِ اعظم کے خلاف دھمکیوں پر زیلنسکی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یورپی یونین کو اس وقت تک کیف سے تعلقات منقطع کر لینے چاہئیں جب تک یوکرینی رہنما ہنگری کے عوام سے معافی نہیں مانگ لیتا۔