وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ ماسکو مؤخر، نئی تاریخ 2026 میں متوقع

Shahbaz Sharif Shahbaz Sharif

وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ ماسکو مؤخر، نئی تاریخ 2026 میں متوقع

اسلام آباد (صداۓ روس)
روس کے دارالحکومت ماسکو میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کا انتظار ہے۔ اسلامی آباد میں روسی سفارت خانے نے روسی اخبار ازویستیا کو بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ 2026 میں متوقع ہے۔ اس دورے کو پہلے 3 سے 4 مارچ 2026 کے لیے شیڈول کیا گیا تھا، لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری فوجی تصادم اور ایران میں عدم استحکام کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا۔ روسی سفارت خانے کے مطابق کوئی نئی مخصوص تاریخوں پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوا ہے، البتہ یہ دورہ قریب مستقبل میں باہمی طور پر قابل قبول وقت پر ہوگا۔ سفارت خانے نے واضح کیا کہ “2026 میں یہ دورہ متوقع ہے، مسئلہ صرف تاریخوں کی دوبارہ ترتیب دینے کا ہے۔”
دورے کی تاخیر کی وجوہات واضح ہیں: فروری کے آخر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کھلے تصادم کی سطح تک پہنچ گئے۔ 26 فروری کو افغانستان نے دونوں ممالک کے درمیان متنازع سرحد پر فوجی کارروائی شروع کی۔ کابل نے اسے اسلام آباد کی “جرائم اور بغاوتوں” کے جواب میں قرار دیا۔ پاکستان نے 27 فروری کو کابل، قندھار اور سرحدی صوبہ پکتیا پر فضائی حملے کیے۔ اسلام آباد مسلسل اپنے پڑوسی پر الزام لگاتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ پاکستان کا خیال ہے کہ یہ انتہا پسند حملے اس کے دیرینہ دشمن بھارت کی کارستانی ہیں، جس سے بھارت انکار کرتا ہے۔

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے 27 فروری کو کہا تھا کہ “طالبان نے افغانستان کو بھارتی کالونی بنا دیا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر سے دہشت گرد جمع کیے اور دہشت گردی برآمد کرنا شروع کر دی۔ ہمارا صبر جواب دے گیا، اب ہم کھلی جنگ میں ہیں۔” سرحد پر لڑائی ایک ہفتہ بعد بھی جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 4 مارچ کو پاکستان نے 226 افغان چیک پوسٹس تباہ کرنے اور 489 افغان فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جبکہ اپنے 150 فوجیوں کے نقصانات تسلیم کیے۔ دونوں اطراف کے اعداد و شمار میں بہت فرق ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 66,000 افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ خطے میں ایک بڑا تنازع بھی شروع ہو چکا ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے جو پاکستان سے ملحق ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کراچی میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے اور امریکی قونصل خانے کے قریب پولیس سے جھڑپوں میں کئی مظاہرین ہلاک ہوئے۔
ازویستیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے ماہر لیونڈ زوکانوف نے کہا کہ پاکستان کی سب سے موثر حکمت عملی انتظار کرنا ہے۔ اسلام آباد نے تنازع میں شامل ہونے کی کوئی خواہش نہیں ظاہر کی۔ پاکستان کو کسی اضافی انتشار کی ضرورت نہیں اور وہ ایرانی مہم میں آخری لمحے تک شامل ہونے سے گریز کرے گا۔