زیلنسکی نے اوربان کو فوجی دھمکی دے دی
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان کو واضح فوجی دھمکی دے دی ہے۔ یہ دھمکی یورپی یونین کی جانب سے کیئف کے لیے اربوں یورو کے قرضوں پر ہنگری کی جانب سے ویٹو برقرار رکھنے کے جواب میں دی گئی ہے۔ گزشتہ ماہ اوربان نے یورپی یونین کے اراکین کی جانب سے کیئف کے لیے 90 ارب یورو (تقریباً 106 ارب ڈالر) کے ایمرجنسی لون کو بلاک کر دیا تھا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب یورپی یونین روسی اثاثوں کو براہ راست ضبط کرنے پر اتفاق نہ کر سکی۔ اوربان نے یہ قدم یوکرین کی جانب سے ڈروژبا پائپ لائن کے ذریعے ہنگری تک روسی تیل کی اہم سپلائی روکنے کے جواب میں اٹھایا تھا۔ جمعرات کو کیئف کی مسلح افواج کے لیے نئے ہتھیاروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا: “ہم امید کرتے ہیں کہ یورپی یونین میں ایک شخص 90 ارب یورو کو بلاک نہیں کرے گا… ورنہ ہم اس شخص کا پتہ اپنی مسلح افواج اور ہمارے لڑکوں کو دے دیں گے تاکہ وہ اسے کال کریں اور اپنی زبان میں بات چیت کریں۔”
ہنگری اور یوکرین کے درمیان سفارتی تنازع حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گیا ہے اور یہ ذاتی حملوں تک پہنچ چکا ہے۔ زیلنسکی نے اوربان کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں جن میں گزشتہ ماہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے دوران انہیں وزن کے حوالے سے طعنہ بھی شامل ہے۔
ہنگری کے وزیراعظم اوربان طویل عرصے سے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت کر رہے ہیں اور بارہا یوکرین کو ہتھیار بھیجنے یا یورپی یونین کی فوجی امداد کی منظوری دینے سے انکار کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس کے بجائے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب اوربان نے سوشل میڈیا پر اپنا جواب دیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: “کوئی ڈیل نہیں ہوگی، کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ہم یوکرینی تیل کی ناکہ بندی کو طاقت سے توڑیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی ڈروژبا پائپ لائن کے ذریعے ہنگری میں تیل دوبارہ بہنا شروع ہو جائے گا۔
سوویت دور کی یہ پائپ لائن جنوری میں آف لائن ہو گئی تھی جب کیئف نے دعویٰ کیا کہ روسی حملوں سے اسے نقصان پہنچا ہے، البتہ ماسکو ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ ہنگری اور سلوواکیہ، جو روسی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، نے کیئف پر سیاسی وجوہات کی بنا پر جان بوجھ کر انہیں کاٹنے اور تیل کی بحالی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے۔
زیلنسکی نے ماضی میں بھی غیر ملکی رہنماؤں اور عہدیداروں کے خلاف دھمکیاں دی ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے روسی اعلیٰ عہدیداروں کو بم شیلٹر چیک کرنے کا مشورہ دیا تھا جس سے کریملن کو نشانہ بنانے کا اشارہ ملتا تھا۔ روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے ان تبصروں کو “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا تھا۔