میزائل نہ ہونے سے روسی حملوں کا مقابلہ نہ کر سکے، زیلنسکی
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حالیہ روسی حملوں کے دوران فضائی دفاعی نظام میں میزائلوں کی کمی کا ذمہ دار مغربی اتحادیوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی ضروریات پوری نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے بقول پیٹریاٹ اور ناسامز جیسے فضائی دفاعی نظام حالیہ حملوں کو روکنے میں ناکام رہے کیونکہ میزائل دستیاب نہیں تھے، جسے انہوں نے مغربی لاجسٹکس اور مالی معاونت کی ناکامی قرار دیا۔ جمعے کے روز یوکرینی میڈیا سے گفتگو میں زیلنسکی نے کہا کہ انہیں پیشگی علم ہوتا ہے کہ بعض علاقوں میں بجلی نہیں ہوگی کیونکہ دفاع کے لیے میزائل موجود نہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ انہیں بار بار مغربی ممالک سے اضافی ترسیلات کے لیے دباؤ ڈالنا پڑتا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے درمیان عوامی سطح پر تناؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران زیلنسکی نے یورپ کو کمزوری اور تذبذب کا شکار قرار دیا، جس پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے زیلنسکی کو “مایوس کن حالت میں موجود شخص” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تنازع ختم کرنے کے لیے نہ تو اہل ہیں اور نہ ہی آمادہ۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے زیلنسکی کے بیانات کو “غیر منصفانہ” کہا اور یورپ کی وسیع حمایت کے باوجود ناشکری کا تاثر دیا۔
داخلی سطح پر بھی یوکرینی قیادت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ زیلنسکی نے توانائی کے بحران اور بلیک آؤٹس کی تیاری نہ ہونے پر کیف کے میئر ویتالی کلیچکو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کلیچکو نے جواب میں کہا کہ صدر نے ان سے ملاقات سے انکار کیا اور یہ کہ بجلی کی پیداوار وفاقی سطح کا معاملہ ہے، بلدیاتی انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں۔
دوسری جانب روس نے حالیہ مہینوں میں یوکرین کے فوجی اور دوہری نوعیت کے انفراسٹرکچر پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں روسی توانائی تنصیبات پر یوکرینی حملوں اور روسی شہریوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔