###
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملوں کی شدت کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے زیلنسکی سے گفتگو کے دوران کہا کہ یوکرین کو روسی آئل ریفائنریوں پر حملوں میں کمی لانی چاہیے۔ ٹرمپ کے مطابق زیلنسکی نے جواب دیا کہ یوکرین ممکنہ طور پر ایسا کرے گا۔
امریکی صدر نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ یوکرین تنازع کے باعث امریکا میں ڈیزل ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ 14 ستمبر کو ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیف نے روسی توانائی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس سے قبل کہا تھا کہ روس میں تیل صاف کرنے والی تنصیبات کی مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوکرینی حملوں کے جواب میں روس کی جانب سے کیے گئے اقدامات ان عناصر کے لیے خاصے اہم ثابت ہوئے جنہوں نے ’’پنڈورا کا ڈبہ‘‘ کھولا۔
پوتن کے مطابق روسی سرزمین پر شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد یوکرین نے روس کی جوابی کارروائیوں کی راہ ہموار کی۔
ماسکو متعدد مرتبہ واضح کرچکا ہے کہ روسی فوج نے یوکرین میں شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنایا۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق روسی مسلح افواج نے صرف فوجی اور فوج سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔