گرین لینڈ میں ڈنمارک کے فوجی اڈوں پر امریکی جاسوسی، میڈیا رپورٹ

Greenland Greenland

گرین لینڈ میں ڈنمارک کے فوجی اڈوں پر امریکی جاسوسی، میڈیا رپورٹ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی فوج نے گرین لینڈ میں واقع ڈنمارک کے اہم فوجی اڈوں، ہوائی پٹیوں اور بندرگاہوں سے متعلق خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، جو ممکنہ طور پر جزیرے پر حملے یا قبضے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ یہ انکشاف ڈنمارک کے معروف اخبار برلنگسکے نے اتوار کے روز دفاعی وزارت کی دستاویزات کے حوالے سے کیا ہے۔ اخبار کے مطابق امریکا ڈنمارک کے خودمختار آرکٹک علاقے گرین لینڈ میں واقع اسٹریٹجک فوجی تنصیبات کے بارے میں حساس معلومات جمع کر رہا ہے، جو کوپن ہیگن اور واشنگٹن کے درمیان موجود دوطرفہ دفاعی معاہدوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ گرین لینڈ معدنی وسائل سے مالا مال ہے، تاہم اس کی آبادی صرف تقریباً 56 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ امریکا کے لیے آرکٹک خطے میں روس اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے نہایت اہم ہے، تاہم اس دعوے کو ڈنمارک، روس اور چین تینوں نے مسترد کر دیا ہے۔

ٹرمپ کے اس مؤقف نے امریکا اور اس کے یورپی نیٹو اتحادیوں کے درمیان شدید اختلافات کو جنم دیا ہے۔ یورپی ممالک نے گرین لینڈ کی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی قوانین اور نیٹو اتحاد کی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ صورتحال مزید اس وقت کشیدہ ہو گئی جب امریکا نے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پر تجارتی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں میں علامتی فوجی دستے گرین لینڈ بھیجے تھے، جسے وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبوں کی مخالفت قرار دیا۔ برلنگسکے کے مطابق دفاعی تجزیہ کاروں نے گرین لینڈ میں امریکی انٹیلی جنس سرگرمیوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈنمارک کی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ جاسوسی سرگرمیاں واشنگٹن کے سیاسی دباؤ یا حتیٰ کہ طاقت کے استعمال کے امکان سے جڑی ہو سکتی ہیں۔ اس جاسوسی اسکینڈل پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ وہ اس معاملے پر شدید فکرمند ہیں، کیونکہ “ہم دوست ممالک کی جاسوسی نہیں کرتے۔”

Advertisement