صدر پوتن کے خصوصی ایلچی نے امریکا سے مذاکرات کو ’تعمیری‘ قرار دے دیا
ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خصوصی ایلچی کیرل دمترییف نے امریکا کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو ’’تعمیری‘‘ قرار دیا ہے۔ منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ہوئی۔ کریملن کی جانب سے پہلے ہی واضح کیا گیا تھا کہ ماسکو ان مذاکرات کے دوران امریکا کو یوکرین تنازع کے حل سے متعلق اپنا مؤقف اور تجاویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کیریل دمترییف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ تاس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ ملاقات بند کمرے میں دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔ ڈیووس 2026 میں واقع امریکی مقام، جسے ’’یو ایس اے ہاؤس‘‘ کہا جاتا ہے، سے باہر آتے ہوئے دمترییف نے مختصر بیان میں کہا کہ ’’یہ ملاقات تعمیری رہی۔ مزید سے مزید لوگ روسی مؤقف کی معقولیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔‘‘
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بھی ملاقات کو ’’انتہائی مثبت‘‘ قرار دیا، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ماسکو اور واشنگٹن نے یوکرین تنازع کے سیاسی حل کے لیے دوبارہ کوششیں شروع کیں۔ اس سے قبل سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات تقریباً منقطع ہو چکے تھے۔ کیریل دمترییف گزشتہ سال کئی مرتبہ امریکا کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات کی بحالی اور ماسکو و کیف کے درمیان لڑائی روکنے کے امکانات پر بات چیت کی۔ دسمبر میں ہونے والے ان کے تازہ دورے کے دوران بھی وٹکوف اور کشنر سے دو روزہ مذاکرات ہوئے تھے، جنہیں دونوں جانب سے اُس وقت بھی ’’تعمیری‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ روسی قیادت مستقبل قریب میں وٹکوف اور کشنر کے ایک اور دورۂ ماسکو کی منتظر ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق صدر پوتن 2025 کے دوران وٹکوف سے چھ مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین کے اعلیٰ مذاکرات کار رسٹم عمروف نے بھی کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارتی حل پر بات چیت اس ہفتے ڈیووس فورم میں جاری رہے گی۔ اس سے قبل امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ’’خوشحالی منصوبے‘‘ پر دستخط کا منصوبہ منسوخ کر دیا گیا ہے، جبکہ زیلنسکی نے بھی اسی روز اعلان کیا کہ وہ ڈیووس فورم میں شرکت نہیں کریں گے۔