ٹرمپ سے ملاقات کی منسوخی: زیلنسکی نے ڈیووس کا دورہ منسوخ کر دیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم (WEF) میں شرکت منسوخ کر دی ہے۔ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے منصوبے کو منسوخ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ یہ ملاقات ‘پراپرٹی پلان’ (Prosperity Plan) پر دستخط کے لیے طے تھی جو گزشتہ سال ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان طے پانے والے نایاب معدنیات (rare-earths) کے معاہدے کا حصہ تھا۔ امریکہ اسے یوکرین تنازع میں اپنے اخراجات واپس لینے کا ذریعہ قرار دے رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگلے عشرے میں یوکرین کی تعمیر نو کے لیے 800 ارب ڈالر کے قرضے، گرانٹس اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ارادہ ہے۔
منگل کو کیف میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ وہ یوکرین میں ہی رہیں گے جب تک امریکہ کی جانب سے “سیکیورٹی گارنٹی” یا “پراپرٹی پلان” کے دستاویزات پر دستخط کے لیے نہیں بلایا جاتا۔ اس کے فوراً بعد یوکرینی اپوزیشن رکن پارلیمنٹ ایلیکسی گونچارینکو نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ زیلنسکی ڈیووس نہیں جائیں گے کیونکہ “ٹرمپ سے ملاقات منسوخ ہو گئی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “کوئی معاہدہ دستخط نہیں ہوگا۔” Axios کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘پراپرٹی معاہدے’ پر دستخط کی کوئی تاریخ طے نہیں تھی اور اسے ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ Politico نے ایک ریپبلکن خارجہ پالیسی ماہر کے حوالے سے بتایا کہ زیلنسکی ٹرمپ سے ملاقات کے “بہت خواہشمند” تھے لیکن “نارضامندی وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہے۔” ٹرمپ نے کہا تھا کہ نایاب معدنیات کا معاہدہ تنازع کے سفارتی حل کے لیے “آگے بڑھنے” کی کلیدی شرط ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے Reuters کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ “ابھی تک کوشش ناکام ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ دار یوکرین ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن “معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں… مجھے لگتا ہے یوکرین کم تیار ہے۔” روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے منگل کو کہا کہ ماسکو نے گزشتہ سال الاسکا سمٹ سے قبل امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے متعدد شرائط قبول کر لی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ یہ تفہیمیں مکمل طور پر برقرار ہیں۔”