یوکرین امن مذاکرات ایک نکتے پر آ کر رک گئے، امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ یوکرین امن مذاکرات اب صرف ایک حل طلب نکتے تک محدود رہ گئے ہیں، جبکہ وہ جمعرات کے روز ماسکو کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں کریملن نے بھی اس دورے کی تصدیق کر دی۔ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈاووس میں منعقدہ ایک غیر رسمی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے اسٹیو وٹکوف نے مذاکرات کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس عمل کے بارے میں حوصلہ مند اور پُرامید ہیں۔ ان کے مطابق اگر دونوں فریق واقعی مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ممکن ہے، کیونکہ اب بات صرف ایک نکتے پر آ کر ٹھہر گئی ہے جس پر مختلف پہلوؤں سے گفتگو ہو چکی ہے۔ اسٹیو وٹکوف نے اس واحد متنازع نکتے کی براہ راست وضاحت نہیں کی، تاہم اس سے قبل وہ اشارہ دے چکے ہیں کہ یہ معاملہ علاقائی تنازع سے متعلق ہے۔ روس کا مؤقف ہے کہ یوکرین ڈونیٹسک اور لوگانسک عوامی جمہوریاؤں کے ساتھ ساتھ خیرسون اور زاپوروزیے کے علاقوں پر اپنے دعوے ترک کرے۔ یہ چاروں علاقے دو ہزار بائیس میں ریفرنڈم کے بعد روس کا حصہ بنے تھے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ان علاقوں کو روس کا حصہ تسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں، تاہم گزشتہ ماہ انہوں نے کہا تھا کہ ممکنہ علاقائی رعایتوں پر ریفرنڈم کرانے کا آپشن زیر غور آ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ماسکو اور کیف کسی معاہدے کے کافی قریب ہیں اور اب ایسا مرحلہ آ چکا ہے جہاں دونوں فریق مل بیٹھ کر سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ جمعرات کے روز ڈاووس میں صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جو ایک گھنٹے سے کم وقت پر محیط رہی اور اس کے بعد کوئی مشترکہ پریس کانفرنس نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو اچھا قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ تنازع ختم ہو جائے گا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا کہ امریکی وفد، جس میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے، جمعرات کی شام ماسکو پہنچنے والا ہے اور صدر ولادیمیر صدر پوتن سے ملاقات فوری طور پر متوقع ہے۔ ان کے مطابق بات چیت میں یوکرین کے مسئلے سمیت دیگر متعلقہ امور بھی زیر بحث آئیں گے، تاہم انہوں نے مذاکرات کی پیش رفت پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
اسی روز فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات میں صدر پوتن نے انکشاف کیا کہ وہ امریکی وفد سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم کردہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں مالی تعاون پر بھی بات کریں گے۔ صدر پوتن نے عندیہ دیا کہ اس مقصد کے لیے امریکا میں منجمد روسی اثاثوں کے استعمال پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے، جس پر بعد ازاں ماسکو میں تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔