چین کو روسی گیس کی برآمدات میں زبردست اضافہ، نئے ریکارڈ قائم

Russian Gas Russian Gas

چین کو روسی گیس کی برآمدات میں زبردست اضافہ، نئے ریکارڈ قائم

ماسکو (صداۓ روس)
چینی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے دو ہزار پچیس کے دوران روس سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا، جبکہ دسمبر میں درآمدات کی ماہانہ مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی نے ان اعداد و شمار کا حوالہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین نے دو ہزار پچیس میں مجموعی طور پر اٹھانوے لاکھ ٹن روسی ایل این جی درآمد کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں اٹھارہ اعشاریہ تین فیصد زیادہ ہے۔ دسمبر کے مہینے میں یہ اضافہ غیر معمولی رہا، جہاں درآمدات بڑھ کر انیس لاکھ ٹن تک پہنچ گئیں، جو دسمبر دو ہزار چوبیس کے مقابلے میں ایک سو چودہ اعشاریہ چھ فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے آخری مہینے میں چین نے روس سے آٹھ لاکھ نواسی ہزار چار سو بیاسی ٹن ایل این جی حاصل کی تھی۔ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر میں روس چین کا دوسرا سب سے بڑا ایل این جی سپلائر بن گیا، جس نے آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ قطر پہلے نمبر پر رہا۔ نومبر دو ہزار پچیس میں روس کی جانب سے چین کو پائپ لائن اور مائع شکل میں فراہم کی جانے والی گیس کی مجموعی مقدار پانچ اعشاریہ آٹھ ارب مکعب میٹر تک پہنچ گئی، جو ایک سال پہلے کے اسی مہینے کے مقابلے میں تینتیس فیصد اضافہ ہے۔

دنیا کے بڑے گیس صارفین میں شامل چین کی جانب سے روسی ایل این جی کی درآمدات میں گزشتہ چند برسوں سے مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پائپ لائن سپلائی کے ساتھ ساتھ روس نے آرکٹک اور مشرق بعید میں واقع منصوبوں سے سمندری راستے کے ذریعے ترسیل میں بھی توسیع کی ہے، جن میں یامال ایل این جی، آرکٹک ایل این جی ٹو اور سخالین ٹو شامل ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں زیادہ تر کارگو شمالی سمندری راستے کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں، جبکہ سردیوں میں طویل جنوبی بحری راستے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مغربی پابندیوں کے باعث روس نے اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے آرکٹک راہداری کے استعمال کو مزید بڑھانے پر توجہ دی ہے۔

Advertisement

گیس کی ترسیل میں یہ تیز رفتار اضافہ اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت یوکرین تنازع کے بعد دو ہزار بائیس سے یورپی یونین کو پائپ لائن سپلائی میں شدید کمی آنے کے بعد روس نے اپنی توانائی کی برآمدات کا رخ ایشیا کی جانب موڑ دیا ہے۔

روس چین کو پاور آف سائبیر یا پائپ لائن کے ذریعے بھی قدرتی گیس فراہم کرتا ہے، جس نے دو ہزار انیس میں کام شروع کیا تھا اور دسمبر دو ہزار چوبیس میں اپنی مکمل پیداواری صلاحیت حاصل کر لی۔ اس کے علاوہ ماسکو اور بیجنگ منگولیا کے راستے پاور آف سائبیر یا ٹو پائپ لائن کے منصوبے پر بھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر صدر پوتن کے مطابق موجودہ اور مستقبل کی پائپ لائنوں کو مدنظر رکھا جائے تو چین کو روسی گیس کی سالانہ فراہمی ایک سو ارب مکعب میٹر سے تجاوز کر سکتی ہے۔