روسی اسکولوں میں غیر ملکی زبانوں کے اوقاتِ تدریس میں کمی کا فیصلہ
ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارتِ تعلیم نے اسکولوں میں غیر ملکی زبانوں کی تدریس کے اوقات کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اطلاق یکم ستمبر دو ہزار چھبیس سے کیا جائے گا۔ ماسکو اسٹیٹ پیڈاگوجیکل یونیورسٹی کے ریکٹر الیکسی لوبکوف نے تیئیس جنوری کو اس فیصلے کا اعلان کیا۔ الیکسی لوبکوف نے روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کو بتایا کہ دو ہزار چھبیس کے تعلیمی سال سے پانچویں سے ساتویں جماعت تک غیر ملکی زبان کی تدریس ہفتہ وار تین گھنٹوں کے بجائے دو گھنٹے کر دی جائے گی، جس کے نتیجے میں مجموعی تدریسی اوقات پانچ سو دس سے کم ہو کر چار سو آٹھ رہ جائیں گے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد طلبہ پر تعلیمی بوجھ کو کم کرنا اور نصاب کے مختلف مضامین کے درمیان وقت کی بہتر اور معقول تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح طلبہ کو دیگر اہم مضامین پر بھی زیادہ توجہ دینے کا موقع ملے گا۔
اس سے قبل سات جنوری کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسکولوں میں غیر ملکی زبانوں کی تعلیم صرف قواعد اور الفاظ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس میں ثقافتی پس منظر اور ابلاغی مہارتوں کی تربیت بھی شامل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق زبان سیکھنے کے دوران بول چال میں ہونے والی غلطیاں ترقی میں رکاوٹ نہیں بنتیں، جبکہ ذاتی دلچسپی اور متعلقہ ثقافت سے وابستگی سیکھنے کے عمل کو زیادہ مؤثر بنا دیتی ہے۔