’پاگل مسخرہ‘ زیلنسکی مغربی ٹیکس دہندگان کو لوٹ رہا ہے، ایرانی وزیرِ خارجہ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’کنفیوزڈ مسخرہ‘‘ قرار دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ وہ مغربی ممالک کے ٹیکس دہندگان کا پیسہ اپنے کرپٹ جرنیلوں کی جیبیں بھرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جمعے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ زیلنسکی نہ صرف امریکا اور یورپ کے عوام کے وسائل کو بے دریغ لوٹ رہے ہیں بلکہ کھلے عام اور بلا شرم امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف غیرقانونی جارحیت کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ زیلنسکی ایک ایسے فوجی ڈھانچے کی نمائندگی کرتے ہیں جو غیر ملکی حمایت اور کرائے کے جنگجوؤں پر مشتمل ہے، جبکہ ایرانی قوم اپنی سرزمین کے دفاع کا ہنر بخوبی جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب ایسے کنفیوزڈ مسخروں سے تنگ آ چکی ہے۔
عباس عراقچی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر زیلنسکی نے مغربی دارالحکومتوں کو ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کی حمایت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ زیلنسکی نے کہا تھا کہ سب کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ امریکا کیا اقدام کرتا ہے، جبکہ یورپی ممالک اس معاملے پر خاموش ہیں اور کسی قسم کی عملی مدد فراہم نہیں کر رہے۔ اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں زیلنسکی نے ایران کے خلاف مزید سخت موقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا نظام جو کئی دہائیوں سے قائم ہو اور اتنے لوگوں کی جانیں لے چکا ہو، اسے وجود میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ایران میں حالیہ احتجاجی لہر دسمبر کے آخر میں شروع ہوئی، جس کی بنیادی وجہ مسلسل مہنگائی اور ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی بتائی جاتی ہے۔ بعد ازاں یہ مظاہرے پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گئے۔ تہران حکام کا کہنا ہے کہ ان فسادات کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ’’مدد آ رہی ہے‘‘، تاہم انہوں نے اس مدد کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کی خبروں کے دوران ایران نے گزشتہ ہفتے مختصر طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔ بعد ازاں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے قطر، سعودی عرب، عمان، مصر اور اسرائیل کے اعلیٰ حکام سے مشاورت کے بعد ایران پر مجوزہ حملے منسوخ کر دیے۔ ہفتے کے روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ملک میں احتجاجی صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور ایرانی قوم نے امریکا کو شکست دی ہے۔