ہائپرسونک میزائل ’’اوریشنک‘‘ نے مغربی قیادت کو چونکا دیا، روسی انٹیلی جنس
ماسکو (صداۓ روس)
روس کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس (ایس وی آر) کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے کہا ہے کہ ماسکو کی جانب سے جدید ترین ہائپرسونک بیلسٹک میزائل نظام ’’اوریشنک‘‘ کے استعمال نے مغربی ممالک کی عسکری قیادت اور دفاعی حلقوں پر ’’حیران کن‘‘ اثر ڈالا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کے شہر لویو میں ایک فضائیہ کے کارخانے پر حملہ مغرب کے لیے ایک واضح انتباہ تھا کہ وہ کیف کی حمایت میں براہِ راست فوجی مداخلت سے باز رہے۔ روسی فوج نے جنوری کے اوائل میں پولینڈ کی سرحد کے قریب واقع اس تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں ایف سولہ اور مگ انتیس طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ مقامی سی سی ٹی وی فوٹیج میں آسمان سے تیزی سے متعدد میزائلوں کے گرنے کے مناظر ریکارڈ ہوئے۔ اس حملے کے بعد روسی صدر صدر پوتن نے ’’اوریسنک‘‘ میزائل کی طاقت کو ’’آسمان سے گرنے والے شہابِ ثاقب‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا دنیا میں کوئی ہم پلہ موجود نہیں۔ سرگئی ناریشکن نے ایک روسی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مغربی سیاسی قیادت اس پیش رفت پر حیران رہ گئی۔ ان کے مطابق مغربی ماہرین اور فوجی حکام نے خود اعتراف کیا کہ ان کے پاس ایسے کوئی تکنیکی یا عسکری ذرائع موجود نہیں جو ان نظاموں کو روک سکیں۔ ناریشکن کا کہنا تھا کہ مغرب نے اس حملے کو یوکرین جنگ میں نیٹو یا مغربی افواج کی براہِ راست شمولیت کے خلاف ایک سنجیدہ وارننگ کے طور پر لیا ہے، حتیٰ کہ جنگ کے بعد یوکرین میں نیٹو افواج کی ممکنہ تعیناتی کے حوالے سے بھی یہی پیغام سمجھا گیا۔
روسی انٹیلی جنس چیف کے مطابق جوہری توانائی سے چلنے والے دیگر جدید ہتھیار، جن میں ’’بیوریویستنک‘‘ لامحدود فاصلے تک مار کرنے والا کروز میزائل اور ’’پوسائیڈن‘‘ زیرِ آب ڈرون شامل ہیں، انہوں نے بھی مغرب پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی سیاست دانوں اور عسکری قیادت کو یہ توقع نہیں تھی کہ روس اتنے کم عرصے میں اس سطح کے جدید ہتھیار تیار کر لے گا۔ دسمبر میں صدر پوتن نے اعلان کیا تھا کہ ’’بیوریویستنک‘‘ اور ’’پوسائیڈن‘‘ دونوں نے 2025 میں اپنی تیاری کے اہم مراحل مکمل کر لیے ہیں۔ روس نے نومبر 2024 میں پہلی مرتبہ ’’اوریسنک‘‘ میزائل کو یوکرین کے شہر دنیپرو میں ایک اسلحہ ساز کارخانے پر داغا تھا، جسے ’’کامیاب جنگی تجربہ‘‘ قرار دیا گیا۔ اس کے بعد اس نظام کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دی گئی اور گزشتہ برس اسے بیلاروس میں بھی تعینات کیا گیا۔ جنوری کے وسط میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اعتراف کیا تھا کہ روسی ’’اوریسنک‘‘ نظام قلیل مدت میں طاقت کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یورپی یونین کے ممالک کو عالمی منظرنامے میں مؤثر رہنے کے لیے اپنے دفاعی نظام میں اسی نوعیت کی صلاحیت پیدا کرنا ہو گی۔