برطانیہ میں 30 سال میں انتہائی غربت، 7 ملین افراد متاثر

UK beggars UK beggars

برطانیہ میں 30 سال میں انتہائی غربت، 7 ملین افراد متاثر

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ میں انتہائی غربت میں مبتلا افراد کی تعداد 2024 میں تقریباً 7 ملین تک پہنچ جائے گی، جو گزشتہ 30 سال میں سب سے زیادہ سطح ہے، یہ انکشاف 27 جنوری کو جوزف راون ٹری فاؤنڈیشن (Joseph Rowntree Foundation) کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انتہائی غربت سے مراد وہ گھرانے ہیں جن کی آمدنی سرکاری غربت کی لکیر کے 40 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ ایسے خاندانوں کی اوسط آمدنی غربت کی لکیر سے 59 فیصد کم ہوتی ہے۔ دو بالغ اور دو بچوں پر مشتمل ایک خاندان کے لیے یہ رقم سالانہ تقریباً 16,400 پاؤنڈ بنتی ہے۔ دی گارڈین کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023-2024 میں 6.8 ملین افراد انتہائی غربت میں تھے، جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے تمام برطانوی شہریوں کے تقریباً نصف کے برابر ہے۔ رپورٹ کے مصنفین نے واضح کیا کہ یہ نہ صرف تعداد کے لحاظ سے ایک ریکارڈ ہے بلکہ 1990 کی دہائی کے وسط کے بعد سے غربت میں مبتلا افراد کا تناسب بھی سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اضافے، اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھرانوں کی مالی مشکلات کو مزید بڑھایا ہے، جس کے باعث بہت سے افراد قرض لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مصنفین نے برطانیہ میں طویل المدتی اور مربوط حکمت عملی کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی ہے، جس سے غربت میں کمی ممکن ہو سکے، جبکہ موجودہ اقدامات صرف بچوں کی غربت کے حل تک محدود رہتے ہیں۔ اسی طرح بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق 16 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح اکتوبر 2025 میں 16 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2015 کے بعد سب سے زیادہ ہے، اور نوجوان بے روزگار افراد کی کل تعداد تقریباً 735,000 تک پہنچ گئی۔