پاکستان–قازقستان ریل رابطہ منصوبہ: تاریخی معاہدہ 3 فروری 2026 کو متوقع
اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان اور قازقستان کے درمیان ریل رابطہ قائم کرنے کے لیے 7 ارب امریکی ڈالر کے ایک بڑے اور تاریخی منصوبے پر مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط 3 فروری 2026 کو متوقع ہیں۔ یہ معاہدہ قازق صدر کے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران طے پائے گا، جسے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تزویراتی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ تین سالہ ریل کنیکٹیویٹی منصوبہ کراچی پورٹ کو بلوچستان کے شہر چمن کے راستے قازقستان سے منسلک کرے گا، جبکہ اس میں افغانستان اور ترکمانستان بھی شامل ہوں گے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد پاکستان کو وسطی ایشیا کے ساتھ براہِ راست ریل رابطے کے ذریعے تجارتی اور ٹرانزٹ حب میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی وزارتِ ریلوے میں اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اسے وزیرِاعظم پاکستان کے علاقائی رابطہ وژن سے مکمل ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس وژن کا مقصد وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت، ٹرانزٹ سہولتوں اور معاشی انضمام کو فروغ دینا ہے تاکہ خطے میں اقتصادی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اس ریل منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان اور قازقستان بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جبکہ پاکستان کو وسطی ایشیا، روس اور سی آئی ایس ممالک تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے گی۔ اس اقدام کو علاقائی رابطہ کاری اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔