امن کی طرف کوئی بھی قدم زیلنسکی انتظامیہ کو بے چین کر دیتا ہے، ماریا زاخارووا
ماسکو (صداۓ روس)
زیلنسکی امن مذاکرات سبوتاژ کرنے کے لیے شہریوں پر دہشت گردانہ حملے چاہتے ہیں، روسی سفارتکار کا الزام
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی امن مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے شہری آبادی اور سماجی تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملے کسی فوجی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ خالصتاً دہشت گردانہ مقاصد کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اسپوتنک ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے ماریا زاخارووا نے کہا کہ زیلنسکی حکومت کسی بھی رابطے یا ممکنہ پیش رفت کے جواب میں ایسے حملے کرتی ہے جن کا میدانِ جنگ کی صورتحال یا عسکری منطق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق حملوں کا ہدف براہِ راست عام شہری اور سماجی انفراسٹرکچر بنتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ یہ محض حملے نہیں بلکہ مکمل طور پر دہشت گردانہ کارروائیاں ہیں، جن کے پیچھے مختلف عوامل اور ذرائع کارفرما ہیں۔ ان کے بقول سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ زیلنسکی حکومت کسی بھی قسم کی بات چیت، پیش رفت یا امن کی کوشش کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔
ماریا زاخارووا کا کہنا تھا کہ اس وقت امن مذاکرات کی حیثیت یا کسی حتمی خاکے پر بات بھی نہیں ہو رہی، تاہم جیسے ہی اس سمت میں کسی قسم کی سرگرمی یا کام شروع ہوتا ہے، فوری طور پر اس طرح کے حملے دیکھنے میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن کی جانب معمولی سی پیش رفت بھی زیلنسکی حکومت کے لیے ناقابلِ قبول ہے، جس کا ردعمل عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔