صدر پوتن کی شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات
ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اکتوبر میں شامی صدر احمد الشرع کے ماسکو کے دورے کے بعد روس اور شام کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے نمایاں کوششیں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں دوطرفہ روابط ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ صدر پوتن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روس ہمیشہ شام کی علاقائی سالمیت کی بحالی کا حامی رہا ہے اور اس مقصد کے لیے شامی حکومت کی تمام کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق، صدر پوتن نے شامی صدر سے ملاقات کے دوران کہا کہ گزشتہ دورے کے بعد اقتصادی تعاون کا باقاعدہ آغاز ممکن ہوا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان عملی شراکت داری کو نئی بنیادیں فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران شام کی آزادی کے بعد سے روس اور شام کے تعلقات میں کبھی بھی ریاستی سطح پر کوئی “تاریک باب” موجود نہیں رہا، اور موجودہ حالات میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
صدر پوتن نے اس بات کی نشاندہی کی کہ روس اور شام کے درمیان صنعت، کھیل، طب اور تعمیرات کے شعبوں میں اہم مشترکہ منصوبے طے پا چکے ہیں، جو مستقبل میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔
شام کی علاقائی سالمیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ ماسکو شامی قیادت کی جانب سے ملک کی وحدت بحال کرنے کی کوششوں پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس عمل میں ہونے والی پیش رفت قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے فرات کے مشرقی علاقوں کا انضمام اس سمت میں ایک اہم قدم ہے، جو شام کی مجموعی علاقائی سالمیت کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا۔ صدر پوتن نے مزید کہا کہ روسی تعمیراتی شعبہ شام کی تعمیرِ نو میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ جنگ کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر بحالی کے کام درکار ہیں۔ روسی کاروباری حلقے شامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان منصوبوں پر کام کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔