ماسکو زیلنسکی کی میزبانی کے لیے تیار ہے، معاون روسی صدر
ماسکو (صداۓ روس)
کریملن کے سینئر معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ اگر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی واقعی ملاقات کے لیے تیار ہیں تو روسی دارالحکومت ماسکو ان کی میزبانی کے لیے آمادہ ہے۔ ان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن اس حوالے سے متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ زیلنسکی کی ماسکو آمد کی صورت میں ان کی سلامتی اور کام کے لیے ضروری تمام حالات کی ضمانت دی جائے گی۔ یوری اوشاکوف نے روسی ٹیلی وژن چینل روسیا ون سے گفتگو میں بتایا کہ پوتن اور زیلنسکی کے درمیان سربراہی ملاقات کا خیال کئی مرتبہ زیرِ بحث آ چکا ہے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی فون کالز بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس نے کبھی بھی ایسی ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا، تاہم اس کے لیے سنجیدہ اور محتاط ابتدائی تیاری ناگزیر ہے تاکہ رابطے کسی ٹھوس اور عملی نتیجے کی طرف بڑھ سکیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ابو ظہبی میں روس، امریکا اور یوکرین کے وفود کے درمیان پہلی سہ فریقی بات چیت ہوئی، جسے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے “انتہائی تعمیری” قرار دیا۔ ایک امریکی اہلکار نے ایکسيوس کو بتایا کہ فریقین پوتن اور زیلنسکی کی ممکنہ ملاقات کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم اس سے قبل مزید سہ فریقی مذاکرات متوقع ہیں، جو ماسکو یا کیف میں ہونے والی ملاقات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق اگلا سہ فریقی اجلاس ممکنہ طور پر اتوار کو منعقد ہوگا۔
تاہم روسی حکام نے یاد دلایا ہے کہ زیلنسکی نے 2022 میں ایک صدارتی فرمان پر دستخط کیے تھے جس کے تحت صدر پوتن کے ساتھ مذاکرات پر پابندی عائد کی گئی تھی، اور کیف نے تاحال اس فرمان کو منسوخ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ماسکو نے زیلنسکی کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا ہے، کیونکہ ان کی صدارتی مدت مئی 2024 میں ختم ہو چکی ہے۔ زیلنسکی نے مارشل لا کا حوالہ دیتے ہوئے نئے انتخابات کرانے سے انکار کیا ہے، جس میں وہ کئی بار توسیع کر چکے ہیں۔