مڈغاسکر میں ڈیم میں شگاف : 5,000 سے زائد گھروں کو خطرہ

Dam Dam

مڈغاسکر میں ڈیم میں شگاف : 5,000 سے زائد گھروں کو خطرہ

ماسکو (صداۓ روس)
مڈغاسکر کے قومی ادارہ برائے رسک اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ (بی این جی آر سی) نے اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت انتاناناریوو کے قریب انالامانگا ریجن میں واقع ایک ہائیڈرو ایگریکلچرل ڈیم میں جزوی شگاف پڑ گیا ہے، جس کے باعث ہزاروں افراد اور وسیع زرعی رقبہ شدید خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سیساؤنی دریا کو کنٹرول کرنے اور قریبی زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے تعمیر کیے گئے اس ڈیم کی حفاظتی دیوار کا ایک حصہ سیلابی پانی کی نذر ہو گیا۔ مسلسل اور شدید بارشوں کے باعث پانی کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے، جس سے مکمل طور پر ڈیم ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر ڈیم مکمل طور پر ناکام ہوا تو تقریباً دو ہزار ہیکٹر پر مشتمل دھان کے کھیت اور پانچ ہزار سے زائد رہائشی مکانات براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ وزیرِاعظم ہیرنٹسالاما راجوناریویلو نے متاثرہ مقام کا دورہ کیا اور فوری حکومتی اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اگرچہ ایک قدرتی آفت ہے، تاہم اس کی ذمہ داری اس کمپنی پر عائد ہوتی ہے جس نے دو ہزار چوبیس میں ڈیم تعمیر کیا تھا۔ ان کے مطابق حکام اس بات کی جانچ کریں گے کہ آیا ڈیم تعمیراتی معیار اور حفاظتی اصولوں کے مطابق بنایا گیا تھا یا نہیں۔ وزیرِاعظم نے یقین دلایا کہ حکومت قدرتی آفات سے بچاؤ کے نظام کی بحالی اور بہتری کے عمل کی کڑی نگرانی کرے گی تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر وزارتِ معیشت و خزانہ نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ناقص تعمیرات، رسمی منظوریوں اور غیر ضروری اضافی اخراجات کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ وزارت کے مطابق اس طرح کے ہنگامی حالات سے بچنے کے لیے تعمیراتی منصوبوں اور سرکاری اخراجات پر سخت نگرانی ناگزیر ہے۔

Advertisement

ماہرین کے مطابق مڈغاسکر میں حالیہ شدید بارشیں جنوبی افریقہ کے مختلف حصوں میں سامنے آنے والے موسمیاتی شدت کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہیں۔ موزمبیق میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آیا ہے جس سے چھ لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے، جب کہ گھروں، سڑکوں اور اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا اور کم از کم بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں بھی لمپوپو اور امپومالانگا صوبوں میں طویل بارشوں کے باعث سیلاب آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم تیس افراد جان سے گئے، ہزاروں مکانات متاثر ہوئے اور متعدد علاقوں میں انخلا کرنا پڑا، جن میں کروگر نیشنل پارک بھی شامل ہے۔