ٹرمپ کا ایران پر نئے حملوں کا منصوبہ: رجیم چینج اور جوہری تنصیبات نشانہ

F-18 F-18

ٹرمپ کا ایران پر نئے حملوں کا منصوبہ: رجیم چینج اور جوہری تنصیبات نشانہ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں، جن کا مقصد ایران میں دوبارہ احتجاجی تحریک کو ہوا دینا اور جوہری مذاکرات کی ناکامی کا جواب دینا بتایا جا رہا ہے۔ رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں ایرانی سکیورٹی فورسز اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے والے محدود حملے شامل ہیں۔ ان حملوں کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جو مبینہ طور پر ’’رجیم چینج‘‘ کی راہ ہموار کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران میں گزشتہ ہفتوں کے دوران شدید نوعیت کے احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں۔ دوسری جانب سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایرانی جوہری تنصیبات اور سرکاری اداروں پر حملوں کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے تاحال کسی حتمی فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا۔ یہ منصوبہ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اس قابل ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دے سکے یا حتیٰ کہ پیشگی کارروائی بھی کر سکے۔ امریکی سینیٹ میں سماعت کے دوران مارکو روبیو نے ایران کو ’’اب تک کی کمزور ترین پوزیشن‘‘ میں قرار دیا، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی وینزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہو گا۔

اسی تناظر میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا، جس کی قیادت یو ایس ایس ابراہام لنکن کر رہا ہے، حال ہی میں خطے میں داخل ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ نے عوامی طور پر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نیا حملہ ہوا تو اس کا جواب گزشتہ برس جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں سے کہیں زیادہ سخت ہو گا، اور ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر ’’ڈیل‘‘ کرے۔ دوسری جانب ایران نے صدر ٹرمپ کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی نئے امریکی حملے کے مقابلے کے لیے ’’دو سو فیصد‘‘ تیار ہے۔ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران کا ردعمل ’’متناسب نہیں بلکہ فیصلہ کن‘‘ ہو گا اور خطے میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ تہران باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم دباؤ کی صورت میں وہ اپنے دفاع اور غیر معمولی ردعمل سے گریز نہیں کرے گا۔

Advertisement