نمیبیا نے کچرے کے مسئلے کے حل کے لیے روس سے مدد طلب کرلی

waste waste

نمیبیا نے کچرے کے مسئلے کے حل کے لیے روس سے مدد طلب کرلی

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
روس میں نمیبیا کی سفیر مونیکا نشاندی نے اپنے ملک میں کچرے کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے حل کے لیے روس سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ یہ درخواست انہوں نے روسی وزارتِ قدرتی وسائل اور روسی ماحولیاتی آپریٹر کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کی۔ روسی ماحولیاتی آپریٹر نے تیس جنوری کو اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
روسی وزارتِ قدرتی وسائل کے نائب وزیر ڈینس بوتسائیف نے اس موقع پر کہا کہ نمیبیا جنوبی افریقہ کا ایک کم آبادی والا ملک ہے، جہاں آبادی تقریباً تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق روس میں موجود کچرا پروسیسنگ کمپلیکس ’’ووستوک‘‘ اپنی مکمل صلاحیت پر سالانہ اس مقدار سے بارہ گنا زیادہ کچرا پراسیس کر سکتا ہے جتنا نمیبیا کا دارالحکومت پیدا کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اس معاملے میں عملی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ملاقات کے دوران روسی ماحولیاتی آپریٹر نے سرکلر اکانومی کے قیام سے متعلق روس کے تجربات پیش کیے اور کچرے کے انتظام، ری سائیکلنگ اور جدید ٹیکنالوجیز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ مونیکا نشاندی نے کہا کہ نمیبیا کو خاص طور پر دارالحکومت ونڈہوک میں کچرا جمع کرنے، منتقل کرنے اور ری سائیکلنگ کا مؤثر نظام قائم کرنے کے لیے روسی معاونت کی ضرورت ہے۔

نمیبین سفیر نے بڑے شہروں کے قریب موجود وسیع لینڈ فلز کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ساتھ ہی کچرے سے توانائی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیز میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ روسی ماحولیاتی آپریٹر کے مطابق یہ شعبہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ تعاون کا اہم محور بن سکتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فروری کے آخر میں ہونے والے روس۔نمیبیا بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کے موقع پر نمیبیا کے متعلقہ اداروں، تنظیموں اور ونڈہوک کی شہری انتظامیہ کے ساتھ مزید تفصیلی ملاقاتیں منعقد کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ چودہ جنوری کو روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے نمیبیا کی وزیرِ خارجہ سیلما اشیپالا موساوی سے ملاقات میں کہا تھا کہ ماسکو اور ونڈہوک کے درمیان دوستانہ تعلقات باہمی احترام اور تعاون کی بنیاد پر مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں، اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی مشاورت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

Advertisement