جرمنی میں بے روزگاری 12 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمنی میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ بارہ برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس سے ملک کی کمزور معیشت کے مزید دباؤ میں آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جرمن معیشت مسلسل تیسرے سال ترقی سے محروم رہنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ وفاقی ایمپلائمنٹ ایجنسی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں دسمبر کے مقابلے میں ایک لاکھ ستتر ہزار افراد بے روزگار ہوئے، جس کے بعد ملک میں بے روزگار افراد کی مجموعی تعداد تیس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ موسمی اثرات کو شامل کیے بغیر بے روزگاری کی شرح میں صفر اعشاریہ چار فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ شرح چھ اعشاریہ چھ فیصد ہو گئی۔ وفاقی ایمپلائمنٹ ایجنسی کی سربراہ آندریا ناہلس کا کہنا ہے کہ اس وقت لیبر مارکیٹ میں کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آ رہی، جبکہ سست معاشی ترقی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کمپنیاں نئی بھرتیوں میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ایس اینڈ پی گلوبل کے ابتدائی پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس کے مطابق جنوری میں نجی شعبے کی کاروباری سرگرمیوں میں کچھ بہتری آئی، تاہم مینوفیکچرنگ سیکٹر بدستور کمزور رہا اور روزگار میں کمی کا عمل تیز ہوگیا۔ جرمنی کو یہ معاشی مشکلات دو ہزار تیئیس اور دو ہزار چوبیس میں مسلسل کساد بازاری اور دو ہزار پچیس میں تقریباً جمود کے بعد درپیش ہیں۔ اسی ہفتے جرمن حکومت نے دو ہزار چھبیس اور دو ہزار ستائیس کے لیے معاشی ترقی کی پیش گوئیاں کم کر دیں، جبکہ خبردار کیا کہ مالیاتی اقدامات توقع کے مطابق معیشت کو متحرک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وزیرِ معیشت کیتھرینا رائیشے نے کہا کہ جرمنی کو نئے “ترقیاتی ذرائع” کی طرف جانا ہوگا کیونکہ روایتی برآمدی صلاحیتیں اب ترقی کو سہارا دینے کے قابل نہیں رہیں۔
ماہرین کے مطابق یوکرین تنازع کے بعد یورپی یونین کی جانب سے روسی گیس کی درآمد میں کمی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے نہ صرف مہنگائی بڑھی بلکہ جرمنی جیسے صنعتی ممالک کی مسابقت بھی متاثر ہوئی۔ توانائی بحران کے باعث مینوفیکچرنگ سیکٹر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جرمن حکومت کا ایک کھرب یورو کا انفراسٹرکچر اور دفاعی سرمایہ کاری منصوبہ، جو یورپی یونین میں بڑھتی عسکری تیاریوں کا حصہ ہے، معیشت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔ جرمن اکنامک انسٹی ٹیوٹ نے حالیہ پیش گوئی میں ملکی معیشت کو “شدید جھٹکے” کی حالت میں قرار دیتے ہوئے کمزور عالمی طلب، بلند شرحِ سود اور طویل توانائی بحران کو بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔