روسی خلا بازوں کا زیرو گریویٹی میں انسانی توازن سے متعلق تجربہ
ماسکو (صداۓ روس)
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود روسی خلا بازوں نے زیرو گریویٹی کے انسانی جسم پر اثرات جانچنے کے لیے ایک اہم سائنسی تجربے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ تجربہ خلا میں حرکت کرتی اشیاء کو دیکھنے، ان کا تعاقب کرنے اور سمتوں کا درست اندازہ لگانے کی انسانی صلاحیت پر عدمِ کششِ ثقل کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے کمانڈر اور روسکوسموس کے خلا باز سرگئی کُد۔سورچکوف کے مطابق اس طبی تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلا باز خلا میں مختلف مراحل کے دوران زیرو گریویٹی کی حالت میں حرکت کرتی اشیاء کی پوزیشن کو کس حد تک درست اور قابلِ اعتماد انداز میں محسوس کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق مستقبل کی طویل المدتی خلائی پروازوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ زیرو گریویٹی انسانی جسم کی معمول کی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر بدل دیتی ہے اور وہ نظام متاثر ہوتے ہیں جو کششِ ثقل پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خلا میں ڈھلنے کے عمل کے دوران حسی مسائل بھی سامنے آتے ہیں، جن میں جسم کی پوزیشن سے متعلق غلط احساسات، چکر آنا اور بصری اشیاء کو درست طور پر دیکھنے میں دشواری شامل ہیں، جو خلا بازوں کے لیے ذہنی اور جسمانی بے چینی کا باعث بن سکتے ہیں۔
تجربے کے دوران ایک خلا باز خصوصی ورچوئل ریئلٹی عینک پہن کر اسکرین پر نمودار ہونے والے ایک چھوٹے نشان کی آنکھوں کے ذریعے نگرانی کرتا ہے۔ یہ نشان کبھی ہموار اور کبھی اچانک مختلف سمتوں میں حرکت کرتا ہے اور اس کے ساتھ بصری خلل بھی پیدا کیا جاتا ہے۔ خلا باز کے چہرے پر لگے خصوصی سینسر آنکھوں کی حقیقی حرکات کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ اس تجربے سے حاصل ہونے والا تمام ڈیٹا زمین پر روسی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف بایومیڈیکل پرابلمز کو بھیجا جا رہا ہے، جہاں ماہرین اس کا تفصیلی تجزیہ کریں گے۔ اس تجربے کا دوسرا مرحلہ، جو دو ہزار تئیس میں شروع ہوا، مکمل طور پر روسی ساختہ آلات اور سافٹ ویئر کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، جبکہ پہلا مرحلہ یورپی آلات کے ساتھ مکمل کیا گیا تھا جو دو ہزار سولہ میں اختتام پذیر ہوا تھا۔