انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ، 8 افراد ہلاک، 80 سے زائد لاپتہ

landslide landslide

انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ، 8 افراد ہلاک، 80 سے زائد لاپتہ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
انڈونیشیا کے مرکزی جزیرے جاوا میں ہفتے کی علی الصبح ہونے والی شدید لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک جبکہ 80 سے زائد لاپتہ ہوگئے۔ یہ حادثہ شدید بارشوں کے باعث پیش آیا جس نے مغربی بندونگ کے دیہی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ڈھائی بجے ہوئی، جب مسلسل موسلا دھار بارش کے بعد پہاڑی علاقے کا بڑا حصہ کھسک کر رہائشی آبادی پر آ گرا۔ متعدد مکانات ملبے تلے دب گئے جبکہ کئی خاندانوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ پاسرلنگو گاؤں کی رہائشی اویوہ نے بتایا کہ بارش صبح سے مسلسل جاری تھی اور اچانک گرج دار آواز کے ساتھ زمین کھسک گئی، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کا گھر محفوظ رہا، تاہم ان کی بھانجی، اس کے شوہر اور دو بچے لاپتہ ہیں۔ متعدد خواتین اور بچوں کو گاؤں کے سرکاری دفتر میں عارضی طور پر پناہ دی گئی ہے۔

قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان عبدالمحاری کے مطابق اب تک 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 82 افراد کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ مغربی بندونگ کے میئر جیجے رچی اسماعیل نے بتایا کہ فوج، پولیس اور رضاکار مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، تاہم دشوار گزار زمین اور غیر مستحکم مٹی کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ مقامی سرچ اینڈ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ ہٹانے کا کام دستی طور پر کیا جا رہا ہے، مٹی کو نرم کرنے کے لیے پانی کے پمپ استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ ڈرونز کی مدد سے لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق انڈونیشیا میں جنگلات کی تیزی سے کٹائی بھی ایسے سانحات کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ جنگلات بارش کے پانی کو جذب کرنے اور زمین کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ ان کی کمی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس شدید بارشوں اور طوفانوں کے باعث سماٹرا میں بھی بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے تھے۔

Advertisement