پاکستان کا دھاری دار لگڑبگڑ: ایک پراسرار مگر نظرانداز شدہ نایاب جانور
اسلام آباد (صداۓ روس)
دھاری دار لگڑبگڑ (اسٹرائپڈ ہائینا) جسے سندھی زبان میں چرّاخ کہا جاتا ہے، پاکستان کا ایک نایاب اور قریب الخطر جانور ہے، جو خاموشی سے قدرتی نظام کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے یہ جانور شدید خطرات کی زد میں ہے، جن میں مسکن کی تباہی، شکار کی کمی اور غیر قانونی شکار سرفہرست ہیں۔ یہ لگڑبگڑ بنیادی طور پر پاکستان کے سنگلاخ اور پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے، جن میں سلیمان پہاڑی سلسلہ (ڈی جی خان)، سندھ کے ویران علاقے، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کچھ حصے شامل ہیں۔ یہ زیادہ تر رات کے وقت سرگرم ہوتا ہے اور عام طور پر تنہا رہنا پسند کرتا ہے۔ دھاری دار لگڑبگڑ کا رنگ عموماً مٹیالا خاکی یا ہلکا بھورا ہوتا ہے، جس پر سیاہ عمودی دھاریاں نمایاں ہوتی ہیں۔ اس کی گردن اور پشت پر گھنے بالوں کی ایک بڑی ایال ہوتی ہے، جسے یہ خطرے کے وقت کھڑا کر کے خود کو بڑا اور خوفناک ظاہر کرتا ہے۔ اس کے کان نوکیلے اور حسّاس ہوتے ہیں، جو اسے رات کے اندھیرے میں بھی چوکس رکھتے ہیں۔
اگرچہ لگڑبگڑ کو عموماً صرف مردار خور سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ چھوٹے جانوروں، رینگنے والے جانداروں، پرندوں اور بعض اوقات پھل بھی کھاتا ہے۔ مردار کھا کر یہ قدرتی ماحول کو بیماریوں سے پاک رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے اسے قدرت کا صفائی کرنے والا بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں دھاری دار لگڑبگڑ کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور یہ جانور اب چھوٹے، بکھرے ہوئے گروہوں تک محدود ہو چکا ہے۔ کئی علاقوں میں اسے بلاوجہ نقصان دہ یا منحوس سمجھ کر مار دیا جاتا ہے، جبکہ بعض جگہوں پر کتوں کے ذریعے اس کا شکار کیا جاتا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں دھاری دار لگڑبگڑ معدومی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ اس کے تحفظ کے لیے:غیر قانونی شکار کے خلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد، عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے غلط فہمیوں کا خاتمہ،، قدرتی مسکن کا تحفظ اور بحالی،، جنگلی حیات کے اداروں کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے۔ دھاری دار لگڑبگڑ نہ تو انسان دشمن ہے اور نہ ہی فطرت کا بوجھ، بلکہ یہ اس قدرتی نظام کا حصہ ہے جس پر ہماری اپنی بقا بھی منحصر ہے۔