روس عالمی تنازع نہیں چاہتا، نہ ہی فوجی آپریشن شروع کرنے کا ارادہ تھا، میدویدیف

Dmitry Medvedev Dmitry Medvedev

روس عالمی تنازع نہیں چاہتا، نہ ہی فوجی آپریشن شروع کرنے کا ارادہ تھا، میدویدیف

ماسکو (صداۓ روس)
روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین ڈمتری میدویدیف نے ٹاس، ریٹرز اور واگونزو کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ روس نہ تو عالمی تنازع چاہتا ہے اور نہ ہی خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے کا خواہشمند تھا۔ انہوں نے کہا: “یقیناً ہم عالمی تنازع میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہم پاگل نہیں ہیں! … عالمی تنازع کسے چاہیے؟” میدویدیف نے زور دیا کہ “ہم خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ روس نے مغرب اور نیٹو ممالک کو بارہا تنبیہ کی تھی کہ وہ روس کے مفادات کو مدنظر رکھیں اور مذاکراتی میز پر آئیں۔ میدویدیف نے کہا: “ہم نے مغرب اور نیٹو ممالک کو بار بار خبردار کیا، انہیں مذاکرات کی دعوت دی اور درخواست کی کہ وہ روسی وفاق کے مفادات کو تسلیم کریں، نیٹو کی توسیع کی حدود کا تعین کریں اور یوکرین کو نیٹو کا رکن بنانے کا خیال ترک کریں۔ اس وقت بھی ہمارا کریمیا پر یوکرین کے ساتھ علاقائی تنازع موجود تھا۔”
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “لیکن وہ بالکل ہٹ دھرم تھے اور کہتے تھے کہ ‘نہیں، ہم جو چاہیں گے کریں گے اور جسے چاہیں گے نیٹو میں شامل کریں گے۔’ اور اب دیکھیے، انہوں نے ایک سنگین عالمی مسئلہ پیدا کر دیا ہے!”
میدویدیف نے واضح کیا کہ روس نے ہمیشہ سفارتی حل کی کوشش کی لیکن مغرب کی جانب سے انکار اور یک طرفہ رویے کی وجہ سے صورتحال بگڑ گئی۔

Advertisement