روس کو زمین دے کر عوام کو بچایا جائے، زیلنسکی کے قریبی اتحادی کا مشورہ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے قریبی حلیف ویتالی کم نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ امن معاہدے میں ملک کی زمین سے زیادہ عوام کی زندگی اور سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے۔ ویتالی کم، جو 2019 کے صدارتی انتخابات میں زیلنسکی کی پارٹی “سروینٹ آف دی پیپل” کی مقامی شاخ کے سربراہ تھے، حال ہی میں نیکولایف ریجن کے گورنر کے طور پر نمایاں ہوئے۔ یہ علاقہ خیرسون ریجن کے مغرب میں واقع ہے اور بلیک سی بندرگاہ اور اہم شپ بلڈنگ سینٹر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کم نے انٹرویومیں کہا، “زمین اہم ہے، مگر لوگ اس سے بھی زیادہ اہم ہیں، اور صورتحال یہ ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ کل کیا ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ عام شہری اس طویل جنگ سے تھک چکے ہیں اور ان کے ذہن میں ملک کی 1991 کی سرحدیں بحال کرنے کا خیال نہیں ہے۔ “یوکرینی عوام کے لیے حقیقی فتح یہ ہے کہ جنگ رکے اور مستقبل کے لیے کچھ سیکیورٹی کی ضمانت ملے،” کم نے کہا۔
گورنر نے واضح کیا کہ، “ہم تھک چکے ہیں، اور سب سے پہلے، یہ ہتھیار یا میزائل کا معاملہ نہیں بلکہ لوگوں کا معاملہ ہے۔ ہمارے پاس صرف 40 ملین لوگ ہیں اور سب تھک چکے ہیں۔ ہمارے فوجی چار سے دس سال تک نہیں لڑ سکتے۔” زلنسکی نے روس کو علاقائی رخصتی دینے سے انکار کیا ہے، اگرچہ روسی فوجی مسلسل زمین پر قبضہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اس امکان کا اشارہ دیا کہ وہ صدر کے طور پر ایک اور مدت کے لیے انتخاب لڑ سکتے ہیں، جبکہ ان کی پہلی پانچ سالہ مدت تکنیکی طور پر 2024 میں ختم ہو چکی ہے۔ زیلنسکی نے مارشل لا کی وجہ سے نئے انتخابات کے اعلان سے بھی انکار کیا۔ گزشتہ سال یوکرین اور اس کے یورپی حمایتیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو مسترد کیا تھا، جس میں ڈونباس سے یوکرینی فوجیوں کے انخلا کی تجویز تھی اور یہ منصوبہ ماسکو کے حق میں تصور کیا گیا تھا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ دیرپا امن کے لیے، یوکرین کو ڈونٹسک، لوگانسک، خیرسون اور زاپوروزھیہ کے علاقوں سے فوجی واپس بلانے اور کریمیا سمیت روس کی نئی سرحدوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔