بندوق کے سائے میں امن کا دعویٰ ناقابلِ قبول ہے: ہفتۂ یکجہتیٔ کشمیر ماسکو سے عالمی ویبینار کا آغاز

ماسکو / اسلام آباد (صدائے روس):

جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور خطے میں امن کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے ایک اہم عالمی آن لائن ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا اہتمام تحریکِ کشمیر یورپ، صدائے روس اور جموں وکشمیر کمیونٹی انٹرنیشنل (JKCI) کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا۔ ویبینار کے ذریعے ہفتۂ یکجہتیٔ کشمیر کی عالمی سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔

ویبینار میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید یوسف نسیم (ایڈووکیٹ) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیاں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، ماورائے عدالت قتل اور مسلسل کرفیو معمول بن چکے ہیں، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی نہایت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔

ویبینار کی صدارت محمد غالب، صدر تحریکِ کشمیر یورپ نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے جسے نہ وقت کے ساتھ فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی طاقت کے زور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے اور عالمی برادری کو اس دیرینہ تنازعے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

Advertisement

ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے غلام نبی بٹ، چیئرمین جموں وکشمیر کمیونٹی انٹرنیشنل (JKCI) نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک حل طلب عالمی تنازعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

ویبینار کی میزبانی صدائے روس کے چیف ایڈیٹر سید اشتیاق ہمدانی نے کی۔ اپنے ابتدائی خطاب میں انہوں نے کہا کہ یومِ یکجہتیٔ کشمیر محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ مسلسل اور عملی یکجہتی کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بظاہر معمولاتِ زندگی جاری دکھائی دیتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہاں آزادی محدود اور خوف مسلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اظہارِ رائے پر پابندیاں، انٹرنیٹ بندش اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کشمیر آج بھی ایک حل طلب عالمی مسئلہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام کا بنیادی مطالبہ صرف یہ ہے کہ انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے، جو ایک تسلیم شدہ عالمی اصول ہے۔

سویڈن کی سیاسی و سماجی شخصیت اور صحافی زبیر حسین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر محض جنوبی ایشیا کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی امن، انصاف اور انسانی حقوق سے براہِ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔ انہوں نے عالمی میڈیا پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں جاری مظالم کو غیر جانبدارانہ انداز میں دنیا کے سامنے لائے۔

افشاں کیانی، ممبر JKCI ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بطور ہتھیار نشانہ بنانا اور بچوں کا خوف کے سائے میں جینا ایک سنگین انسانی المیہ ہے، جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو فوری توجہ دینی چاہیے۔

ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے تحریکِ کشمیر برطانیہ کی انفارمیشن سیکرٹری ریحانہ علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک سیاسی تنازعہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ ہے، جسے عالمی برادری مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری پابندیاں اور ریاستی جبر اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔

راجہ پرویز احمد، جنرل سیکرٹری جموں وکشمیر کمیونٹی انٹرنیشنل (JKCI) نے کہا کہ کشمیر آج دنیا سے وقتی ہمدردی نہیں بلکہ مستقل، عملی اور بامعنی یکجہتی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ JKCI دنیا بھر میں منظم انداز میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر رہی ہے۔

جنوبی افریقہ سے کامران امتیاز، سیکرٹری اطلاعات پاسا (PASA) نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک تاریخی تنازعہ نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی المیہ ہے، جہاں بچے خوف میں اور نوجوان اپنی شناخت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کی جدوجہدِ آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی یکجہتی ہی مظلوم اقوام کی اصل طاقت ہوتی ہے۔

ویبینار کے دوران مقررین نے بین الاقوامی قانونی فریم ورک، اقوام متحدہ کی قراردادوں، عالمی مداخلت، مستقل جنگ بندی اور بھارت و پاکستان کے درمیان بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل پر زور دیا۔

ویبینار کے اختتام پر شرکاء نے آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور صدائے روس کے چیف ایڈیٹر سید اشتیاق ہمدانی کی خالہ کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔

آخر میں مقررین نے اعلان کیا کہ ہفتۂ یکجہتیٔ کشمیر کی عالمی مہم کا آغاز ماسکو سے کیا گیا ہے، جسے آئندہ دنوں میں دیگر عالمی دارالحکومتوں تک وسعت دی جائے گی، اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھی جائے گی جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔