یوکرین جنگ بندی پر صدر پوتن نے اپنا وعدہ نبھایا، امریکی صدر ٹرمپ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر پوتن نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر بڑے شہروں پر حملوں میں ایک ہفتے کے وقفے سے متعلق اپنا وعدہ پورا کیا، جو شدید سردیوں کے دوران بجلی کے بحران کے پیشِ نظر کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے اس وقت جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ ماسکو اور کیف کے درمیان توانائی سے متعلق ایک عارضی جنگ بندی طے پا گئی ہے، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ذاتی طور پر صدر پوتن سے ’’انتہائی سرد موسم‘‘ کے باعث حملوں میں جزوی وقفے پر رضامندی کی درخواست کی تھی۔ بعد ازاں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ایک ہفتے پر مشتمل یہ مہلت یکم فروری تک برقرار رہے گی اور اس کا مقصد مذاکرات کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے اس کا حوالہ امریکا کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات سے دیا تھا۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ وقفہ اتوار سے اتوار تک رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد گزشتہ رات سخت حملے کیے گئے، تاہم اس سے قبل صدر پوتن نے اپنے وعدے کی پاسداری کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ حالات بہت سخت ہیں اور ایسی سردی میں کسی بھی قسم کا وقفہ اہمیت رکھتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ جنگ بندی میں توسیع نہ ہونے پر مایوس ہیں تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ صدر پوتن جنگ کا خاتمہ کریں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کے روز تصدیق کی تھی کہ وقفے کے آغاز کے بعد سے روس نے بڑے توانائی کے ڈھانچے پر ہدفی میزائل یا ڈرون حملے نہیں کیے، تاہم ان کے مطابق محاذی علاقوں میں گولہ باری جاری رہی۔ تین فروری کو زیلنسکی نے روس پر رات گئے حملوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جبکہ ماسکو کا کہنا تھا کہ یہ مہلت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ یوکرین کا بجلی کا نظام روسی میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے، متعدد علاقوں میں بار بار بجلی کی بندش ہو رہی ہے اور کئی خطوں میں درجہ حرارت منفی دس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے دفاعی شعبے کی معاونت کرنے والے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ کارروائیاں روس کے اندر گہرائی میں یوکرینی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں، جن میں اہم تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ شہری آبادی کو کبھی نشانہ نہیں بناتے۔