یوکرین میں نیٹو افواج کی تعیناتی کو ‘فوجی مداخلت’ سمجھا جائے گا، ماسکو کا انتباہ
ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی نیٹو ممالک سیز فائر کے بعد یوکرین میں افواج تعینات کرتی ہیں تو ماسکو اسے براہ راست ‘فوجی مداخلت’ قرار دے گا۔ بدھ کو باقاعدہ بریفنگ میں زاخارووا نے کہا کہ ‘کوئلیشن آف دی ولنگ’ کی جانب سے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں یوکرین میں دستے بھیجنے کی تیاریاں “غیر ملکی فوجی مداخلت کا ننگا منصوبہ” ہیں جو ماسکو کے لیے “بالکل ناقابل قبول” ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یوکرینی سرزمین پر مغربی افواج کی تعیناتی “کسی بھی بہانے” سے روس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور “یہ افواج ہمارے نزدیک جائز فوجی ہدف سمجھی جائیں گی۔”
یہ بیان نیٹو سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے منگل کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “کچھ یورپی اتحادی” امن معاہدے کے بعد یوکرین میں افواج تعینات کریں گے۔ روٹے کے مطابق یہ دستہ “زمین پر فوجی، فضا میں جنگی طیارے اور بحیرہ اسود میں بحری جہاز” پر مشتمل ہوگا جبکہ “امریکہ بیک اپ کا کردار ادا کرے گا۔”
کیف کے حامی ممالک طویل عرصے سے یوکرین میں افواج تعینات کرنے کی تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔ جنوری کے آغاز میں فرانس اور برطانیہ نے کیف کے ساتھ ‘یوکرین کے لیے ملٹی نیشنل فورس’ پر اعلانِ ارادہ کیا تھا جس میں سیز فائر کے بعد ٹریننگ اور بحالی کے لیے ‘فوجی ہبز’ قائم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس وقت کہا تھا کہ پیرس اکیلے 6 ہزار فوجی بھیج سکتا ہے جو فرنٹ لائن سے دور تعینات کیے جائیں گے۔
تاہم اس ماہ کے آغاز میں فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ برطانیہ اور فرانس امریکہ کی ٹھوس حمایت کے بغیر یوکرین میں فوجی بھیجنے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی زمینی افواج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے مگر دیگر ذرائع سے مدد کی پیشکش کی ہے اور زور دیا ہے کہ یورپی نیٹو ممالک ذمہ داری کا بڑا حصہ اٹھائیں۔