ایپسٹین کیس: کلنٹن جوڑے کا یوٹرن، کانگریس کے سامنے گواہی پر آمادگی

Bill Clinton Bill Clinton

ایپسٹین کیس: کلنٹن جوڑے کا یوٹرن، کانگریس کے سامنے گواہی پر آمادگی

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن اور سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں ایوانِ نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی کے سامنے گواہی دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب کمیٹی نے کلنٹن جوڑے کو کانگریس کی توہین کا مرتکب قرار دینے کے لیے ووٹنگ کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ کلنٹن جوڑا ایپسٹین کے ساتھ مبینہ روابط کے باعث طویل عرصے سے جانچ پڑتال کی زد میں رہا ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن کی ایپسٹین کے ہمراہ تصاویر اور ان کے نجی طیارے میں سفر کے اعتراف نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا تھا، تاہم بل کلنٹن کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے لاعلمی اور بے گناہی کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی نے گزشتہ برس کلنٹن جوڑے سے گواہی حاصل کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا، جو ابتدائی غیر رسمی رابطوں سے بڑھ کر باقاعدہ سمن تک جا پہنچی۔ اس دوران دونوں کے وکلا نے سمن کو غیر قانونی اور ناقابلِ نفاذ قرار دیتے ہوئے پیشی سے انکار کیا اور متبادل تعاون کی بات کی۔ صورتحال اس وقت سنگین ہوئی جب کمیٹی نے کلنٹن جوڑے کو کانگریس کی توہین کا مرتکب ٹھہرانے کی قرارداد آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا، جس کی بعض ڈیموکریٹ اراکین نے بھی حمایت کی۔ قانونی ماہرین کے مطابق توہینِ کانگریس کی صورت میں معاملہ محکمہ انصاف کو بھیجا جا سکتا تھا، جس سے فوجداری کارروائی کا راستہ کھل سکتا تھا۔

منگل کے روز ریپبلکن رکن اور کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے اعلان کیا کہ بل اور ہیلری کلنٹن نے ایپسٹین سے متعلق تحقیقات کے تحت تحریری اور وڈیو ریکارڈ شدہ بیانات دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ہیلری کلنٹن کی پیشی 26 فروری جبکہ بل کلنٹن کی گواہی 27 فروری کو متوقع ہے۔

Advertisement

جیمز کومر کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ واضح ہوا کہ ایوانِ نمائندگان کلنٹن جوڑے کو توہینِ کانگریس کا مرتکب قرار دے سکتا ہے، دونوں نے مکمل طور پر پسپائی اختیار کرتے ہوئے گواہی دینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے بھی تصدیق کی ہے کہ گواہی پر رضامندی کے بعد توہینِ کانگریس پر ووٹنگ کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین، جو جنسی جرائم میں سزا یافتہ تھا، 2019 میں نیویارک کی جیل میں ہلاک پایا گیا تھا، جسے سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا۔ تاہم اس کی موت کے گرد پھیلے حالات نے مختلف سازشی نظریات کو جنم دیا، جن میں بااثر شخصیات سے متعلق ممکنہ انکشافات روکنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔