نیو اسٹارٹ معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد تمام پابندیوں سے آزاد ہیں، روس
ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ماسکو یہ سمجھتا ہے کہ روس اور امریکا کے درمیان نیو اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (نیو اسٹارٹ) کے فریقین اب اس معاہدے کی کسی بھی ذمہ داری کے پابند نہیں رہے اور اپنے آئندہ اقدامات کے تعین میں آزاد ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں نیو اسٹارٹ کے تناظر میں کسی بھی قسم کی ذمہ داری یا متوازن اعلانات، بشمول معاہدے کی بنیادی شقوں، اب لاگو نہیں ہوتے۔ بیان کے مطابق روسی فیڈریشن اس صورتحال میں ذمہ دارانہ اور متوازن رویہ اختیار کرے گی اور اسٹریٹجک جارحانہ ہتھیاروں سے متعلق اپنی پالیسی کا تعین امریکی عسکری پالیسی اور مجموعی اسٹریٹجک ماحول کے گہرے تجزیے کی بنیاد پر کرے گی۔ روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نیو اسٹارٹ کی حدود پر ایک سال تک عملدرآمد جاری رکھنے کی روسی تجویز پر امریکا کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دوطرفہ ذرائع سے کسی قسم کا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ امریکی حکام کے عوامی بیانات سے بھی یہ تاثر نہیں ملتا کہ واشنگٹن روس کی پیش کردہ اسٹریٹجک تجاویز پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے۔ روس کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تجاویز کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔
روسی سفارتکاروں نے اس امریکی رویے کو غلط اور افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ عملی طور پر روس اس پیش رفت کو ایک حقیقت کے طور پر مدنظر رکھے گا اور اسی بنیاد پر اس شعبے میں اپنی آئندہ پالیسی تشکیل دے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روس قومی سلامتی کو لاحق ممکنہ اضافی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فیصلہ کن عسکری و تکنیکی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ماسکو اسٹریٹجک صورتحال کو جامع طور پر مستحکم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے مساوی اور باہمی مفاد پر مبنی مذاکراتی حل کی تلاش کے لیے بھی آمادہ ہے، بشرطیکہ اس تعاون کے لیے مناسب حالات پیدا ہوں۔