روس کی نائجر کو 20 ہزار ٹن معدنی کھاد کی ترسیل

Cargo Ship Cargo Ship

روس کی نائجر کو 20 ہزار ٹن معدنی کھاد کی ترسیل

ماسکو (صداۓ روس)
روس نے نائجر کو 20 ہزار ٹن معدنی کھاد فراہم کر دی ہے۔ نائجر میں روس کے سفیر وکٹر ووروپایوف نے خبر رساں ادارے تاس کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ کھاد سے لدا ایک بحری جہاز حال ہی میں مغربی افریقی ملک ٹوگو کی بندرگاہ لومے پہنچا ہے، جہاں سے یہ امداد نائجر منتقل کی جا رہی ہے۔ سفیر کے مطابق نائجر کی حکومت روس کی جانب سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کو بے حد سراہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سن 2025 میں روس نے نائجر کو 350 ٹن سورج مکھی کا تیل اور 20 ہزار ٹن گندم بھی فراہم کی تھی، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا مظہر ہے۔ وکٹر ووروپایوف نے کہا کہ گزشتہ برس جولائی میں توانائی کے وزیر سرگئی تسویلیوف کی قیادت میں روسی وفد کے نائجر کے دورے نے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول اس وقت روس اور نائجر کے تعلقات تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور توانائی، معدنی وسائل کے استخراج اور ان کی پروسیسنگ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زراعت، صحت، ثقافت اور کھیلوں کو بھی مستقبل کے اہم شعبے قرار دیا۔

سفیر نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ روس ساحل (ساحلین) خطے بالخصوص نائجر میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق روس نائجری فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے روسی وزارتِ دفاع کے افریقی کور کے اہلکاروں کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اہلکاروں نے 28 اور 29 جنوری 2026 کی درمیانی شب دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ناکام بنانے میں اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

Advertisement

وکٹر ووروپایوف نے مزید کہا کہ صدر عبد الرحمن چیانی کی قیادت میں نائجر کی قیادت سیاست، توانائی، زراعت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں مکمل خودمختاری کے حصول کے لیے پُرعزم ہے، جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے پیش کردہ اصولی مؤقف سے ہم آہنگ ہے۔

واضح رہے کہ روسی سفارت خانہ 33 سال کے وقفے کے بعد 2025 میں نائجر میں دوبارہ کھولا گیا تھا۔ گزشتہ سال اگست میں صدارتی فرمان کے تحت وکٹر ووروپایوف کو نائجر میں روس کا سفیر مقرر کیا گیا۔ وہ دسمبر کے وسط میں نائجر پہنچے اور 15 جنوری کو صدر عبد الرحمن چیانی کو اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔